Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اس میں سبق ہے

Urdu book, p. 375

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ ان کو جانتے ہیں۔ وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ میری ماں ان کے پاس گئی تھی اور ان سے تعویذ لائی تھی۔ اس تعویذ سے بہت فائدہ ہوا۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ابھی تو وہ سفر میں ہیں۔ کل تک وہ وہاں پہنچ جائیں گے۔ اس وقت ان سے ملاقات ہو سکتی ہے ۔ ہندو نو جوان نے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم کہ وہ سفر میں ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ جس مسافر سے تم بات کر رہے ہو، وہی مولانا اکرام الدین ہیں۔ یہ سنتے ہی ہندو نو جوان نے مولانا اکرام الدین کے پاؤں پکڑ لیے۔ اس نے کہا کہ مجھے چھما کر دیجیے۔ مجھ سے بہت بھاری غلطی ہو گئی۔ اس غلطی پر جی چاہتا ہے کہ میں اپنے آپ کو مارلوں۔ وہ نو جوان اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اصرار کر کے مولانا اکرام الدین صاحب کو اپنی جگہ بٹھا دیا۔ اس کے بعد وہ آخری اسٹیشن تک برابر کھڑا رہا۔ اگلے اسٹیشن پر جب دونوں اترے تو نو جوان نے اصرار کر کے مولانا کو ناشتہ کرایا۔ مو لا نا اکرام الدین صاحب نے اس طرح کے اور کئی واقعات سنائے اور کہا کہ ہندوؤں میں ہم نے جو اخلاق پایا، وہ اخلاق ہم نے موجودہ مسلمانوں میں نہیں پایا۔ اسی طرح انھوں نے بتایا کہ 1982 ء میں، میں تراویح سنانے کے لیے بنگلور گیا ہوا تھا۔ ایک روز میں گھنور سے کورم ہلی بذریعہ اسکوٹر جا رہا تھا۔ راستہ میں میرے اسکوٹر کا پٹرول ختم ہو گیا۔ کچھ دور تک میں اسکوٹر کو دھکیل کر لے گیا۔ پھر سڑک کے کنارے ناریل کا ایک باغ دکھائی دیا۔ اس کے اندر ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ میں باغ کے اندر گیا۔ وہاں ایک ہندو بیٹھا ہوا تھا۔ مجھ کو دیکھتے ہی اس نے اپنے آدمی سے کہا کہ ایک کرسی لے آؤ۔ مجھ کو کرسی پر بٹھا کر پوچھا کہ حضرت کیا کام ہے۔ میں نے کہا کہ میری گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ یہاں سے آٹھ کلو میٹر دور جانے پر مجھے پٹرول مل سکے گا۔ میں کار دیکھ کر یہاں آگیا کہ شاید یہاں سے مجھے پٹرول مل جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page