اس میں سبق ہے
Urdu book, p. 376
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ ہندو نے فوراً اپنے ڈرائیور سے کہا کہ دیکھو اگر باہر پٹرول ہو تو اس کو حضرت کی گاڑی میں ڈال دو۔ اور اگر باہر نہ ہو تو اپنی گاڑی میں سے نکال کر ان کو پٹرول دے دو۔ پٹرول لینے کے بعد میں نے اپنی جیب سے بیس روپیہ کا نوٹ نکالا، تا کہ پٹرول کی قیمت ادا کروں۔ اب ہندو فوراً ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ ہم کو معاف کیجیے۔ پیسہ کی ضرورت نہیں۔ ہم کو بس آپ کی دعا چاہیے۔ انسان کو غصہ نہ دلائیے۔ اور اگر کسی وجہ سے وہ غصہ ہو جائے تو جوابی غصہ نہ کر کے اس کو ٹھنڈا کر دیجیے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ جس کو آپ اپنا دشمن سمجھ رہے تھے، وہ آپ کے لیے ایسا ہو گیا ہے جیسے کہ وہ آپ کا قریبی دوست ہو۔ ہر آدمی خدا کا بنایا ہوا ہے۔ اس دنیا میں کوئی آدمی نہیں جس کو خدا کے علاوہ کسی اور نے پیدا کیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر وہی فطرت ہے، جو کسی دوسرے کے اندر ہے۔ ہر آدمی کے اندر اچھے اور برے کی وہی تمیز موجود ہے، جو کسی دوسرے کے اندر پائی جاتی ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ ہر آدمی کے اندر انا (ego) بھی موجود ہے۔ یہی ”انا“ ساری خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے ہر آدمی کی انسانیت کو اس کے سینہ کے اندر سلا رکھا ہے۔ ہر آدمی کی انا ابتدائی طور پر حالتِ خواب میں ہے۔ آپ کی عقل مندی یہ ہے کہ آدمی کی اس انا کو سویا رہنے دیں، اس کو کبھی بیدار نہ کریں۔ جب آدمی کی انا (ego) سو رہی ہو تو وہ اپنی حالتِ فطری پر ہوتا ہے۔ اس وقت وہ وہی کرتا ہے جو سچی انسانیت کا تقاضا ہے۔ کوئی آدمی صرف اس وقت برا بنتا ہے، جب کہ اس کی انسانیت کو جگا دیا جائے۔ عقل مند آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی انا کو جگانے سے آخری حد تک پرہیز کرے، اور بالفرض اگر کسی کی انا جاگ اٹھے تو پہلی فرصت میں اپنے حکیمانہ رویہ سے اس آگ کو بجھا دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader