Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 377

By Maulana Wahiduddin Khan

جولوگ عقل مندی کی اس روش کو اختیار کرلیں، ان کو بھی دوسروں کی طرف سے شکایت نہ ہوگی، خواہ وہ ایک ملک میں رہتے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں۔ تدبیر، نہ کہ اشتعال 20 فروری 1991 ء کو منو کے عبد الجبار صاحب (64 سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہر فساد کا واحد حل حکیمانہ تدبیر ہے۔ اگر حکمت کا طریقہ اختیار کیا جائے تو کبھی کوئی فساد نہ ہوگا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنے ذاتی تجربہ کے کئی واقعات بتائے۔ منو کے محلہ مرزا ہادی پورہ میں عبد الحکیم گرہست صاحب رہتے ہیں۔ ان کے گھر کے پاس ایک مسجد ہے، جو ”جامع مسجد احناف“ کے نام سے مشہور ہے۔ 1981ء کا واقعہ ہے۔ رات کے وقت کسی نے خنزیر کا مرا ہوا بچہ اس مسجد میں ڈال دیا۔ صبح کو فجر کی نماز کے لیے لوگ مسجد آئے تو دیکھا کہ وہاں خنزیر پڑا ہوا ہے۔ خبر مشہور ہوتے ہی سارے منو میں سنسنی پھیل گئی۔ 8 بجے تک عبد الحکیم گرہست کے مکان پر بھیڑ لگ گئی۔ مسلمان بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔ لوگ سخت مشتعل تھے۔ اور قریب تھا کہ کوئی کارروائی کر بیٹھیں اور پھر سارے شہر میں فساد کی صورت پیدا ہو جائے۔ مگر عبد الحکیم گرہست صاحب نے لوگوں کو سختی سے روکا اور پر امن رہنے کی تاکید کی۔ اس کے بعد انھوں نے پولیس کو ٹیلی فون کیا۔ فوراً پولیس جائے واردات پر پہنچ گئی۔ پولیس والوں نے ضلع کے صدر دفتر اعظم گڑھ کو بھی ٹیلی فون کر دیا تھا۔ چنانچہ وہاں سے بھی افسران آگئے ۔ پولیس افسروں نے آکر مسلمانوں کو سمجھایا اور کہا کہ آپ لوگ پر امن رہیں، ہم کو کارروائی کرنے کا موقع دیں ۔ اس کے بعد پولیس والوں نے خنزیر کو وہاں سے اٹھوایا۔ اور فائر بریگیڈ کو بلا کر دور تک پانی سے اچھی طرح دھو دیا۔ اس کے بعد معاملہ وہیں کا وہیں ختم ہو گیا۔ کسی قسم کے فساد کی نوبت نہیں آئی ۔ جب کہ اس طرح کے ایک واقعہ پر اکثر پورا شہر فساد کی زد میں آجاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page