تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 378
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح کے مواقع پر بہترین عقل مندی یہ ہے کہ مسلمان امن پسندی کا ثبوت دیں۔ وہ خود کوئی جارحانہ کارروائی نہ کریں، بلکہ معاملہ کو پولیس کے حوالے کر دیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو یقینی ہے کہ کسی قسم کا فساد نہیں ہوگا۔ خنزیر ہڈ ڈالنے والے اس لیے خنزیر ڈالتے ہیں کہ مسلمان مشتعل ہو کر کوئی جارحانہ کارروائی کر دیں، تاکہ انہیں مکمل فساد کرنے کا موقع مل جائے۔ اس سازش کا توڑ یہ ہے کہ مسلمان بالکل خاموش رہیں اور پولیس کو اطلاع دینے کے سوا کوئی اور کارروائی نہ کریں۔ یہ فساد کے بم کو ناکارہ کر دینے کے ہم معنی ہوگا۔ اعراض کا فائدہ پونہ کے ایک سفر میں وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ 22 ستمبر 1991ء کو پونہ میں گنیش چترتھی کا جلوس نکلنے والا تھا۔ اسی دن 12 ربیع الاول کی تاریخ بھی تھی، اور اس کی نسبت سے مسلمان اپنا میلاد النبی کا جلوس نکالنا چاہتے تھے۔ اگر دونوں جلوس ایک ہی دن نکلتا تو یقینی تھا کہ دونوں میں ٹکراؤ ہو اور فرقہ وارانہ فساد کی صورت پیدا ہو جائے۔ اور پھر جشن کا دن شہر کے لیے غم کا دن بن جائے۔ پونہ کی سیرت کمیٹی کی دانش مندی سے یہ خطرہ ٹل گیا۔ انھوں نے ایک اجتماع کر کے مشورہ کیا کہ ایسی حالت میں کیا کیا جائے ۔ اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا کہ ہم لوگ اس معاملہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ چنانچہ انھوں نے اپنی تاریخ بدل دی۔ انھوں نے میلاد النبی کا جلوس چند دن کی تاخیر کے ساتھ 27 ستمبر کو نکالا۔ اس طرح ہندو جلوس اور مسلمان جلوس دونوں پر امن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ اس واقعہ پر شہر کے تمام لوگ بہت خوش ہوئے۔ اور مسلمانوں کی دانش مندی کو سرا ہا۔ خاص طور پر پولیس کے لوگوں نے بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ اور مسلمانوں کے اس عمل کی تعریف کی۔ انھوں نے مسلمانوں سے مل کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ فساد نہ ہونا پولیس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader