Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 379

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے ایک ذاتی کارنامہ کی حیثیت رکھتا ہے، اور یقینی طور پر پولیس کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ کارنامہ ان کی فہرست اعمال میں لکھا جائے۔ پونہ کی سیرت کمیٹی نے جب تاریخ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا تو اس وقت انھوں نے اس کی خبر مراٹھی اخباروں میں شائع کرا دی۔ اس طرح پورے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو اس کی اطلاع ہوگئی۔ چنانچہ دوسرے جن مقامات پر دونوں جلوس ایک ہی دن نکلنے والے تھے، وہاں بھی اس طرح مسلمانوں نے اپنے جلوس کی تاریخ کو بدل دیا۔ اس کے نتیجہ میں پورا مہاراشٹر فساد کے نقصان سے بچ گیا۔ فرقہ وارانہ فساد سے بچنے کی سب سے زیادہ کارگر تدبیر یہی اعراض کا طریقہ ہے۔ جہاں بھی لوگوں نے اس تدبیر کو استعمال کیا ہے، وہاں فساد نہیں ہوا۔ فساد کے بم کو ناکارہ کرنے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ فساد ہمیشہ غصہ کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ سازش کے تحت۔ ایم فیکٹر، کیو فیکٹر دہلی کے ایک مسلم نوجوان ایک انگریزی میگزین میں کام کرتے تھے۔ اس میگزین کے مالکان سب ہندو تھے ۔ چند سال کے بعد منتظمین کی طرف سے مذکورہ مسلم نوجوان سے کہا گیا کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔ چوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ استعفیٰ نہ دیں تو اُن کو برخاست کر دیا جائے گا۔ اس لیے انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد مذکورہ مسلم نوجوان سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میرے ساتھی کہتے ہیں کہ اس کا سبب ایم فیکٹر (M-factor) ہے۔ میں نے کہا کہ ہرگز نہیں، اس کا سبب صرف کیو فیکٹر (Q-factor) ہے، یعنی مسلم فیکٹر نہیں، بلکہ کوالٹی فیکٹر ۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے دل سے منفی خیال مکمل طور پر نکال دیں اور آپ صرف ایک کام کریں، وہ ہے اپنی انگلش رائٹنگ کو امپروو (improve) کرنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page