Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 380

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے مشورے سے انھوں نے برٹش کونسل میں داخلہ لے لیا۔ وہاں انھوں نے ایک سال اپنی زبان کو امپروو کرنے کی کوشش کی۔ برٹش کونسل سے ایک سال کا کورس پورا کرنے کے بعد ان کی زبان پہلے سے بہتر ہو چکی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک اور انگریزی میگزین میں انٹرویو دیا۔ وہاں ان کا سلیکشن ہو گیا۔ اب وہ اس دوسرے انگریزی میگزین میں کام کر رہے ہیں۔ یہاں ان کو پہلے سے تقریباً تین گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے، جب کہ اس دوسرے میگزین کے مالکان بھی ہندو ہیں۔ اس مثال سے زندگی کی ایک حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اکثر لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب وہ کسی ناپسندیدہ صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ یہ کرتے ہیں کہ اس کو فوراً تعصب (bias) کا معاملہ سمجھ کر اس کی ذمے داری دوسرے کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن گہر امطالعہ بتاتا ہے کہ تعصب کا لفظ صرف ڈکشنری میں پایا جاتا ہے، حقیقی زندگی میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ جب بھی آپ کو دوسروں کی طرف سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آئے تو سمجھ لیجیے کہ وہ خود آپ کی کسی کمی کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اپنی کمی کو دریافت کر کے اس کو دور کیجیے اور پھر آپ کی شکایت اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ نفرت کلچر امریکا کے سابق صدر جارج بش اپنے آخری دور صدارت میں عراق گئے، وہاں 4 دسمبر 2008ء کو بغداد میں ایک پریس کانفرنس تھی۔ اس موقع پر ایک عراقی صحافی منتظر الزیدی نے اپنا جوتا نکال کر جارج بش کی طرف پھینکا۔ اس واقعے پر سارا مسلم ورلڈ جھوم اٹھا۔ ایک عرب دولت مند نے اس صحافی کو ایک ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا، وغیرہ۔ اس واقعے کے بعد مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page