Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 381

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں ایک نیا احتجاجی کلچر پڑا جس کو جوتا کلچر کہا جا سکتا ہے۔ ایک مسلم اخبار نے پھینکنے کے ان مناظر کی تصویریں چھاپی ہیں اور اُس پر یہ عنوان قائم کیا ہے: Shoes that made history. موجودہ زمانے کے مسلمان منفی سوچ میں جی رہے ہیں۔ مذکورہ واقعہ اس منفی سوچ کا ایک انتہائی بدنما مظاہرہ ہے۔ اِس جوتا کلچر کا صرف یہ نتیجہ ہوا کہ اس نے عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی تصویر بگاڑ دی۔ اِس لیے اس کا صحیح عنوان یہ ہونا چاہیے: Shoes that distorted the image of Islam. جوتا پھینکنے کا یہ کلچر اپنی حقیقت کے اعتبار سے دوسروں پر جوتا پھینکنا نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنے آپ پر جوتا پھینکنا ہے۔ ایسا کر کے مسلمان دوسروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچارہے ہیں، بلکہ وہ خود اپنے آپ کو ایکسپوز (expose) کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے پاس دوسروں کے لیے صرف نفرت کا سرمایا ہے۔ یہ بلاشبہ وہی نفسیات ہے جس کا مظاہرہ آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس نے کیا تھا۔ جولوگ انسان کے خلاف اِس قسم کی نفرت آمیز نفسیات میں مبتلا ہوں، انھیں سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے اِس عمل سے کس کی پیروی کر رہے ہیں۔ اِس طرح کے افعال بلاشبہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والے ہیں۔ وہ کسی کو خدا کی رحمت کا مستحق بنانے والے نہیں۔ سچا مومن وہ ہے جو انسان سے محبت کرے۔ جولوگ انسان سے نفرت کریں، وہ سچے مومن نہیں۔ جوتا کلچر انسانی شرافت کے بھی خلاف ہے اور ایمان اور اسلام کے بھی خلاف۔ اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر قدیم زمانہ میں کہا جاتا تھا کہ الحرب أنفى للحرب (جنگ کا توڑ جنگ ہے)۔ یہ فکر ہزاروں برس سے انسان کے اندر چلی آرہی تھی۔ بدقسمتی سے یہی فکر تاریخی تسلسل کے نتیجہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page