Urdu book · تعمیرِ شخصیت

کی تدبیر

Urdu book, p. 382

By Maulana Wahiduddin Khan

خود مسلمانوں میں کسی نہ کسی طور پر جاری رہا۔ حضرت عثمان کی شہادت سے لے کر اب تک کی مسلم تاریخ میں اس کے نمونے پھیلے ہوئے ہیں۔ 1948ء میں فلسطین کا مسئلہ پیدا ہوا جو عملاً پوری مسلم دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ اس وقت بھی تمام مسلم ذہن اسی ڈھنگ پر سوچنے لگے۔ اس سوچ کی نمائندگی ایک عرب شاعر خیر الدین الزرکلی (وفات 1976ء) کے شعر میں ان الفاظ میں ملتی ہے ۔ صلاح الدین ایوبی کو ہمارے درمیان دوبارہ لے آؤ، حطین یا حطین جیسے معرکے کو دوبارہ گرم کرو: هاتي صَلَاحَ الدِّيْنِ ... ثَانِيَةً فِينَا وَ جَدِّدِي حِطِّيْنَ ... أَوْ شِبْهَ حِطِّيْنَا اقبال اپنے علم اور ذہانت کے باوجود اس فکر سے اوپر نہ اٹھ سکے۔ ان کا پورا کلام کسی نہ کسی طور پر اسی فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کا یہ شعر پڑھیے : گفتند جہان ما آیا بتومی سازد گفتم کہ نمی سازد گفتند کہ برہم زن یعنی، دریافت فرمایا کہ میرا جہاں تمہارے ساتھ سازگاری کر رہا ہے؟ میں نے جواب دیا سازگاری نہیں کر رہا۔ کہا کہ اسے درہم برہم کر دو۔ اسلام اس معاملہ میں انقلابی تبدیلی کا پیغام تھا۔ جنگ کیوں ہوتی ہے۔ جنگ ہمیشہ اختلافات کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ لوگ اختلاف کو صرف مٹانا جانتے تھے، اس لیے وہ فوراً فریق ثانی سے لڑجاتے تھے۔ اسلام نے اس معاملہ میں ایک نئے اصول کو رواج دیا۔ قرآن میں یہ اصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے : وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (4: 128)۔ یعنی، اور صلح بہتر ہے۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ صلح بہتر ہے۔ صلح کیا ہے۔ صلح یہ ہے کہ اختلاف کو مٹانے پر زور نہ دیا جائے بلکہ اختلاف کو گوارہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page