تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 389
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ عوام یا تو آپ سے محبت کرتے ہیں یا آپ سے نفرت۔ اس معاملے میں ان کے یہاں کوئی درمیانی حالت نہیں: عوامی نفسیات کے بارے میں یہ بیان بالکل درست ہے۔ عام لوگ محبت اور نفرت دونوں کے معاملے میں سخت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک تباہ کن عادت ہے۔ صحیح یہ ہے کہ محبت اور نفرت کو عقل کے تابع کیا جائے، نہ کہ جذبات کے تابع۔ حدیث میں آیا ہے کہ دوستی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دوست کبھی تمھارا دشمن بن جائے۔ اور دشمنی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دشمن کبھی تمھارا دوست بن جائے ۔ أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1997)۔ یہ ایک نہایت حکیمانہ ہدایت ہے۔ دنیا میں دوستی اور دشمنی دونوں عارضی چیزیں ہیں۔ اس معاملے میں ضروری ہے کہ آدمی اعتدال پسندی کا رویہ اختیار کرے، نہ کہ انتہا پسندی کا رویہ۔ اعتدال پسندی کا رویہ ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے، اور انتہا پسندی کا رویہ ہمیشہ مہلک نتیجے کا سبب بنتا ہے۔ محبت کے بجائے نفرت میں مراد آباد میں پیدا ہوا۔ پھر دس برس بجنور میں رہا۔ 14 برس دہلی میں اور اب 35

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader