Urdu book · تعمیرِ شخصیت

محبت کے بجائے نفرت

Urdu book, p. 390

By Maulana Wahiduddin Khan

برس سے حجاز میں ہوں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز کے فتوے کی بنا پر میں ہندوستان کو دارالحرب جانتا تھا اور اس کے قیام کو حرام۔ اسی نظریہ کے تحت انگریزی دور میں ہندوستان سے ہجرت کی، بلکہ ہجرت شرعی سے بھی کچھ زیادہ۔ یہ معاملہ میری نظر میں اتنا سنگین تھا کہ حجاز آنے کے بعد دوبارہ ہندوستان واپس جانے کے تصور کو بھی میں ناجائز خیال کرتا تھا۔ ایک بار میں بیوی کے ساتھ حج کے لیے گیا ہوا تھا۔ عرفات کا میدان تھا اور عصر و مغرب کے درمیان کا وقت۔ یہ وقت میدان عرفات میں گناہوں کی بخشش کا ہوتا ہے، میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ یہ گناہوں کی معافی کا وقت ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ حقوق العباد کا ہوتا ہے۔ مجھ سے تمہارے حقوق کی ادائیگی میں جو کوتاہی ہوئی ہو اس کو معاف کردو۔ بیوی نے کہا کہ ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ تم مجھ کو ہندوستان لے جا کر ایک بار مجھے میرے عزیزوں سے ملا دو۔ ہندوستان کا نام سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ میں اور ہندوستان۔ پھر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ ایک طرف دوزخ ہو، اور دوسری طرف ہندوستان تو تم دونوں میں سے کس کو ترجیح دوگے۔ اس کے بعد میں نے جو فیصلہ کیا وہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔“ یہ ایک بزرگ کی خود نوشت کہانی کا ایک حصہ ہے، جو انھوں نے دہلی کے ایک اردو روزنامہ (5 اگست 1991ء) میں شائع کی ہے۔ یہ کوئی ایک کہانی نہیں، اس قسم کی ان گنت کہانیاں ہیں، جو ساری دنیا میں بکھری ہوئی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ایسے بے شمار لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے غیر مسلم قوموں کو اسلام کا حریف سمجھ کر ان سے نفرت کی، مگر وہ ان کو اسلام کا مدعو اور مخاطب سمجھ کر ان سے محبت نہ کر سکے۔ ان خیالات کے تحت بے شمار لوگ ایسی ہجرت اور جہاد میں مصروف رہے، جس کا کوئی فائدہ نہ دینی صورت میں نکلنے والا تھا اور نہ دنیوی صورت میں۔ کیسی عجیب بات ہے۔ لوگوں نے ہندوستان کو دار الحرب سمجھا، مگر وہ اس کو دار دعوت نہ سمجھ سکے ۔ ہندوؤں کو انھوں نے غیر قوم قرار دیا، مگر وہ ان کو مدعو قوم قرار نہ دے سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page