Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 391

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزوں اور فرانسیسیوں کو لوگوں نے شیطان کے بندے کہہ کر ان کے خلاف جہاد کیا، مگر وہ ان کو خدا کے بندے سمجھ کر ان کو خدا سے قریب لانے کی کوشش نہ کر سکے۔ انھوں نے مسلم حکمرانوں اور بادشاہوں کو ظالم ٹھہرا کر ان کی ہلاکت کے منصوبے بنائے، مگر وہ ان کو اپنا بھٹکا ہوا بھائی جان کر ان کی اصلاح کی خیر خواہانہ کوشش نہ کر سکے۔ کیسی عجیب تھی یہ ہجرت اور کیسا عجیب تھا یہ جہاد۔ اس عجیب وغریب ہجرت اور جہاد کے نتیجہ میں اگر موجودہ دنیا میں اسلام کو غلبہ حاصل نہ ہو سکا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ دشمن میں دوست روایات میں آتا ہے کہ محرم 3ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غطفان کی جانب سفر کیا۔ اس سفر سے واپسی میں آپ ایک موقع پر ایک درخت کے نیچے تنہا لیٹ کر آرام فرما رہے تھے۔ اس وقت مشرکین میں سے ایک شخص ادھر سے گزرا۔ وہ آپ کو اکیلا دیکھ کر آپ کے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تلوار تھی۔ اس نے کہا کہ اے محمد، تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ۔ اس کے بعد اس نے تلوار رکھ دی اور آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ اب بتاؤ کہ تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔ اس نے کہا کہ آپ بہتر تلوار لینے والے ہیں۔ آپ نے اس سے یہ وعدہ لے کر چھوڑ دیا کہ وہ آئندہ کبھی آپ کے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔ اس کے بعد وہ اپنے قبیلہ والوں کے پاس گیا اور کہا کہ میں تمھارے پاس سب سے اچھے انسان سے مل کر آرہا ہوں: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ (مسند احمد، حدیث نمبر 15190؛ سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 2504)۔ دوسری روایت کے مطابق، اعرابی کا یہ کہنا اس کے قبیلہ والوں کے لیے اسلام سے قربت کا سبب بن گیا۔ چنانچہ پورا کا پورا قبیلہ آپ کا ساتھی بن گیا (مغازی الواقدی،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page