سماجی ہم آہنگی
Urdu book, p. 397
By Maulana Wahiduddin Khan
فارمولا یقینی طور پر ایک غیر حقیقی فارمولا ہے ۔ وہ عملی طور پر نہ کبھی ممکن ہوا اور نہ آئندہ وہ کبھی ممکن ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ فرق کوئی عیب نہیں ، بلکہ وہ ایک خوبی ہے۔ وہ مذہبی فکریں ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں صرف ایک ہی فارمولا ہے جو مفید اور قابل عمل ہے، اور وہ فارمولا وہ ہے جورواداری (tolerance) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو: Follow one and respect all. ② ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو غلط فہمیاں موجود ہیں ان کی ذمہ داری ہندو اور مسلمان دونوں طرف کے رہنماؤں کے اوپر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔ مختلف اسباب کے تحت دونوں طرف کے رہنماؤں نے اپنے اپنے عوام کو وہ ذہن دیا جس کو شناخت (identity) کہا جاتا ہے۔ دونوں ہی نے اپنے قومی وجود کے لیے شناخت کو اہم ترین مسئلہ قرار دیا۔ اس کو پختہ کرنے کے لیے ہندو رہنماؤں نے یہ نظریہ بنایا کہ مسلمان مَلِچھ ہیں اور مسلم رہنماؤں نے یہ نظریہ وضع کیا کہ ہندو کافر ہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں نظریہ یکساں طور پر غلط ہے۔ ہندو کو دل سے یہ ماننا چاہیے کہ مسلمان انھیں کی طرح انسان ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو دل سے یہ ماننا چاہیے کہ ہندو انھیں کی طرح انسان ہیں۔ جب تک سوچ میں یہ تبدیلی نہ آئے ہماری سماجی زندگی میں معتدل تعلقات کا ماحول قائم نہیں ہوسکتا۔ اس معاملہ کا ایک اور پہلو ہے، اور اس کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں سے ہے۔ مسلمان اپنے عقیدہ کی رو سے داعی ہیں اور ہندو اُن کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader