Urdu book · تعمیرِ شخصیت

سماجی ہم آہنگی

Urdu book, p. 398

By Maulana Wahiduddin Khan

داعی مدعو کے اس رشتے کا تقاضا ہے کہ مسلمان یک طرفہ طور پر ذمہ داری لیں کہ انہیں شرعی حکم کے مطابق ، تالیف قلب کے اصول پر عمل کرنا ہے۔ انہیں یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہندوؤں کی شکایتوں کو یک طرفہ طور پر اپنے اوپر لے لیں تا کہ دونوں فرقوں کے درمیان وہ معتدل ماحول قائم ہو جو دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے۔ یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ ہندوؤں کی کئی شکایتیں جن کو مسلمان ” غلط نہی “ قرار دیتے ہیں اور غلط نہی دور کرنے کے نام پر ایک غیر مؤثر مہم لمبی مدت سے چلا رہے ہیں ۔ اس کو انہیں مکمل طور پر ترک کر دینا چاہیے۔ کیوں کہ جو معاملہ ہندوؤں کے نزدیک صحیح نہی کا ہو اس کا خاتمہ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ ہم اس کو غلط نہی کہہ کر نظر انداز کر دیں۔ مثال کے طور پر مسلم بادشاہوں کی کئی کارروائیوں پر ہندوؤں کو بجا طور پر شکایت ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کھلے طور پر ان کارروائیوں کی مذمت کریں۔ وہ کھلے طور پر یہ کہیں کہ ہندوستان کی مسلم حکومتیں خاندانی حکومتیں تھیں ، نہ کہ اسلامی حکومتیں ۔ اس کے سوا کسی اور طریقہ سے اس معاملہ کا خاتمہ ممکن نہیں۔ (۳) اقلیت و اکثریت کے تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں پہل مسلمانوں کو کرنا چاہیے۔ مثلاً مسلمانوں کے اندر دو قومی نظریے کے بجائے ایک قومی نظریہ کو فروغ دینا ۔ مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ سوچ کو ختم کر کے قومی سوچ (national thinking) پیدا کرنا ، اسی طرح مسلمانوں کے اندر سے اس ذہن کو مکمل طور پر ختم کرنا کہ وہ ہندوؤں کے ایک طبقہ کو دشمن ہندو اور دوسرے طبقہ کو سیکولر ہندو سمجھتے ہیں ۔ وہ الیکشن میں دھوم مچاتے ہیں کہ مفروضہ دشمن ہندو ہاریں اور سیکولر ہندو جیتیں ۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page