Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 415

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، زندگی کسی کے لیے بھی مکمل طور پر مسئلہ نہیں ہوتی۔ کبھی ایک مسئلہ تو کبھی دوسرا مسئلہ۔ اس معاملے کا حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنی منفی سوچ کو بدلے۔ وہ بظاہر شکایت کے حالات میں بھی مثبت ذہن سے سوچنے کا طریقہ اپنائے، وہ مکمل طور پر مثبت انداز میں سوچنے والا بن جائے۔ رُجز کو چھوڑ و پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ اس وقت آپ کو ایک بنیادی ہدایت یہ دی گئی کہ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ (74:5)۔ یعنی، رجز کو چھوڑ دے۔ رجز کا مطلب گندگی ہے۔ وہ رجز کیا تھا جس کو آپ نے چھوڑ کر اپنا مشن چلایا۔ اس کی تفصیل آپ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ اس کا تعلق آپ کے مشن کے طریقہ کار (method) سے تھا۔ اگر رسول اللہ کی عملی روش کو لے کر اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ نزاعی طریقہ کار (confrontational method) کو چھوڑ و، اور غیر نزاعی طریقہ کار (non-confrontational method) کو اختیار کرو۔ رسول اللہ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا مشن پوری طرح غیر نزاعی اصول پر چلایا۔ کعبہ میں اس وقت کے لوگوں نے 360 بت رکھ دیے تھے۔ مگر آپ نے اس سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ اس سے اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ مکہ میں دار الندوہ (tribal parliament) تھا۔ مگر آپ نے اس میں قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس سے مکمل طور پر اعراض کرتے ہوئے اپنا مشن غیر سیاسی انداز میں چلایا۔ مکہ کے سرداروں نے کہا کہ آپ مکہ چھوڑ دیجیے، تو آپ نے ان کے اس فیصلہ پر کوئی ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ خاموشی کے ساتھ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page