Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 416

By Maulana Wahiduddin Khan

اس واقعے کی روشنی میں رجز کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر قسم کے ٹکراؤ کو چھوڑتے ہوئے، اپنا مشن جاری رکھا جائے۔ یعنی مذہبی ٹکراؤ، سیاسی ٹکراؤ، قومی ٹکراؤ، حقوق کا ٹکراؤ، وغیرہ سے مکمل طور پر اجتناب کرتے ہوئے توحید کا مشن جاری رکھا جائے۔ یہی طریقہ ابدی طور پر اہل اسلام کا طریقہ ہے۔ وہ جس ملک یا جس زمانے میں ہوں، ہر جگہ اسی غیر نزاعی طریقہ کو اختیار کرنا ہے۔ یہی کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ قانونِ خداوندی کے مطابق کوئی اور طریقہ کامیابی کا طریقہ نہیں ہوسکتا۔ چُپ کی طاقت ایک پرانا مثل ہے— ایک چُپ ہزار بلا ٹالتی ہے۔ یہ مثل تقریباً ہر زبان میں مختلف الفاظ میں موجود ہے۔ اس لحاظ سے تمام لوگ اس مثل کو جانتے ہیں، مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس مثل کو عملاً اپنی زندگی میں استعمال کریں۔ جاننے میں اور عمل میں اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب کوئی عورت یا مرد اس مثل کو سنتا ہے یا پڑھتا ہے، اُس وقت وہ معتدل ذہن (normal mind) کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن جب اُس کے استعمال کا وقت آتا ہے تو اُس وقت وہ غیر معتدل ذہن (abnormal mind) کی حالت میں ہو جاتا ہے۔ اس کے عملی استعمال کا وقت وہ ہوتا ہے، جب کہ کوئی آدمی بھڑک کر اُس کو غصہ دلا دے، وہ اس کے خلاف ناشائستہ کلمات بول دے۔ اُس وقت یہ ہوتا ہے کہ سننے والا بھی بھڑک اُٹھتا ہے۔ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہتا ہے۔ یہی سبب ہے جس کی بنا پر لوگ جانتے ہوئے بھی چُپ کی پالیسی کو اختیار نہیں کر پاتے۔ چُپ رہنے سے بات وہیں کی وہیں ختم ہو سکتی تھی، لیکن بولنے کا طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے بات بڑھتی ہے اور بریک ڈاؤن (break down) کی نوبت آجاتی ہے، ایک وقتی چیز مستقل خرابی کا سبب بن جاتی ہے۔ اشتعال کے موقع پر چُپ رہنا سب سے زیادہ کامیاب پالیسی ہے۔ اشتعال کے موقع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page