تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 431
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فریق ثانی کوئی اشتعال انگیز بات کہے تو تم اس کے جواب میں خود مشتعل نہ ہو، بلکہ مثبت انداز میں اس کا جواب دو۔ فریق ثانی کی طرف سے خواہ کچھ بھی کہا جائے، تمھارا طریقہ مثبت ردِعمل کا ہونا چاہیے، نہ کہ منفی ردِعمل کا طریقہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صحابہ نے فریق ثانی کو جو جواب دیا، اُس میں بیک وقت دو فائدے تھے: ایک، یہ کہ صحابہ نے اپنے آپ کو منفی ردِعمل کی نفسیات سے بچا لیا، اور منفی ردِعمل سے بچنا ہی تزکیہ نفس کا اصل ذریعہ ہے۔ منفی ردِعمل آدمی کے نفس کو آلودہ کرتا ہے اور مثبت ردِعمل آدمی کے نفس کو پاک کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس طرح مثبت جواب دینے کا دوسرا فائدہ یہ تھا کہ قول محض قول نہ رہا، وہ ایک دعوت کا قول بن گیا۔ اس کے ذریعے صحابہ نے فریق ثانی کو یہ پیغام دیا کہ شرک کا عقیدہ ایک بے بنیاد عقیدہ ہے۔ صحیح اور درست عقیدہ یہ ہے کہ آدمی اللہ واحد کو مانے اور اُسی سے ہر قسم کے خیر کی امید رکھے۔ ساری طاقت کا مالک اللہ ہے۔ کسی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف اللہ سے ملتا ہے، نہ کہ کسی اور سے۔ سفر کا آغاز سفر کا آغاز ہمیشہ آج سے ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ اپنے سفر کا آغاز کل سے کرنا چاہتے ہیں۔ یہی مزاج ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ اکثر لوگ غیر مطمئن زندگی گزار کر مر جاتے ہیں۔ وہ اپنا نشانہ پورا کیے بغیر موجودہ دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ہر آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو پیدا ہوتے ہی اس کو کچھ حالات ملتے ہیں۔ اگر بالفرض خارجی طور پر اس کو کچھ چیزیں نہ ملیں تب بھی اس کا اپنا وجود اس کو یقینی طور پر حاصل رہتا ہے۔ زندگی کے سفر کا سب سے زیادہ کامیاب آغاز یہ ہے کہ آدمی جہاں ہے وہیں سے وہ اپنا سفر شروع کردے۔ وہ حاصل شدہ مواقع کو استعمال کر کے اپنی دنیا بنائے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ جو چیز اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader