Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 432

By Maulana Wahiduddin Khan

کو بھی نہیں ملی ہے اس کو پانے کے لیے اپنی ساری توجہ لگادے۔ اس طریقہ کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم (positive status quoism) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی ٹکڑاؤ کا طریقہ چھوڑ کر حالات موجودہ کو قبول کر لینا اور بروقت جو مواقع (opportunities) موجود ہیں ان کو استعمال کرکے پر امن انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔ پیدا ہونے کے بعد آدمی کو بروقت جو کچھ ملا ہوا ہوتا ہے وہ اس کو اپنے حوصلہ کے مقابلہ میں کم معلوم ہوتا ہے ۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ پہلے زیادہ حاصل کرے اور اس کے بعد زندگی کی مثبت تعمیر کی طرف بڑھے۔ مگر یہ سوچ غیر فطری ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ملے ہوئے کو مواقع کی نظر سے دیکھا جائے اور اس کو لے کر فورا ًہی زندگی کی مثبت تعمیر شروع کر دی جائے۔ حاصل شدہ نقشہ کار کے اندر مثبت جدوجہد کرنے کا نام پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم ہے۔ یہی کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ جو لوگ حاصل شدہ نقشہ کار کو نا کافی سمجھ کر نئے نقشہ کار کی طرف دوڑیں ان کے لیے اس دنیا میں تباہی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ زندگی کی جدوجہد ہمیشہ ملے ہوئے سے ہوتی ہے۔ جو لوگ نہ ملے ہوئے سے زندگی کی جدوجہد شروع کرنا چاہیں وہ یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ ان کی جدوجہد کبھی شروع ہی نہ ہو۔ بحران کا مثبت پہلو سگمٹ فرائڈ (Sigmund Freud) آسٹرا یا (سنٹرل یورپ) میں 1856ء میں پیدا ہوا، اور 1939ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ نفسیات کا عالم (psychologist) تھا۔ فرائڈ اپنے ایک غلط نظریہ کی وجہ سے کافی بدنام ہوا۔ اُس کا نظریہ تھا کہ— نفسیاتی پیچیدگیاں ابتدائی دور کے جذباتی صدمات کا نتیجہ ہوتی ہیں، وہ دبی ہوئی صنفی توانائی کا اظہار ہیں: Symptoms were caused by early trauma, and ... were expressions of repressed sexual energy.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page