Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 433

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم فرائڈ کی بعض تحقیقات سبق آموز ہیں۔ اُن میں سے ایک اِس کا یہ قول ہے کہ۔ زندگی کا ہر بحران امکانی طور پر انسانی شخصیت کے مثبت پہلو کو متحرک کرنے کا سبب بنتا ہے: Every crisis is potentially a stimulus to the positive side of the personality. یہ فطرت کے نظام کا ایک اہم پہلو ہے۔ خدا کے تخلیقی نظام کے تحت، ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی میں جب کوئی غیر مطلوب واقعہ پیش آتا ہے تو وہ ایک مطلوب نتیجے کا سبب بن جاتا ہے۔ اِس کے بعد آدمی کے اندر نیا شوق، نیا ولولہ اور نیا جذبۂ عمل پیدا ہوتا ہے۔ آدمی کا ذہن زیادہ بیدار ہوکر زیادہ بہتر منصوبہ بندی کرنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر بحران آدمی کی زندگی میں ایک نیا امکان کھول دیتا ہے، ہر ناکامی آدمی کے لیے ایک نئی کامیابی کا سبب بن جاتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت حال میں مایوس نہ ہو، وہ ہر رکاوٹ کو اپنے لیے ترقی کا نیا زینہ سمجھے، وہ مسئلہ (problem) کو ایک چیلنج سمجھے، نہ کہ صرف ایک مسئلہ۔ مسئلے کو صرف مسئلہ سمجھنا آدمی کو مایوسی کی طرف لے جاتا ہے، اور مسئلے کو چیلنج سمجھنا آدمی کے لیے نیا دروازہ کھولنے کا سبب بنتا ہے۔ ماضی میں جینا لوگوں سے بات کیجیے تو اکثر لوگ، بلکہ شاید سبھی لوگ کسی نہ کسی کے خلاف کوئی شکایت لے کر منفی احساسات میں مبتلا رہتے ہیں۔ پورے معنوں میں مثبت سوچ والا آدمی شاید کوئی بھی آج کی دنیا میں موجود نہیں۔ اِس قسم کی سوچ آدمی کے اندر منفی شخصیت (negative personality) پیدا کرتی ہے۔ اور منفی شخصیت کسی بھی عورت یا مرد کے لیے خودکشی سے کم نہیں۔ عام خودکشی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page