Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 453

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کے درمیان بے جگہ ہو گیا ہے۔ ایسے مواقع پر اثر لینے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی ان تجربات کے بعد بے ہمتی اور احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جائے ۔ ایسے آدمی نے گویا اپنے آپ کو مار لیا۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے لیے ایسا تجربہ ایک مہمیز بن جائے ۔ ایسے آدمی کے لیے اس کا تجربہ اس کی صلاحیتوں کو جگانے کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ از سرِ نو محنت اور عمل کے رخ پر چل پڑتا ہے، یہاں تک کہ ماضی کا نا کام انسان مستقبل کا کامیاب انسان بن جاتا ہے۔ مثبت تاثر آدمی کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور منفی تاثر نا کامی اور بر بادی کی طرف۔ ’انا‘ کی دیوار یوپی (انڈیا) کے ایک شہر کا واقعہ ہے۔ یہاں ایک مسلم عالم نے ایک مدرسہ بنایا۔ اس کے بعد وہاں حکومت کی طرف سے ایک سڑک کی تعمیر کی گئی۔ یہ سڑک مدرسے کی عمارت کے پاس سے گزر رہی تھی۔ یہاں مدرسے کی ایک دیوار تھی جو سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ مدرسے کے لوگ اس دیوار کو ہٹانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ پختہ دیوار ہے، ہم اس کو کیسے ہٹا سکتے ہیں۔ آخر کار یہ معاملہ بڑھ کر نزاع تک پہنچ گیا۔ ایک دوسرے مدرسے کے ذمے دار جو الرسالہ مشن سے وابستہ ہیں، اُن کو معلوم ہوا تو وہ اُس متنازعہ مقام پر گئے۔ انھوں نے مدرسے کے ذمے داروں سے کہا کہ یہ نہ پختہ دیوار ہے اور نہ غیر پختہ دیوار ۔ یہ صرف انا کی دیوار ہے۔ اس کے بعد مدرسے والے اس دیوار کو ہٹانے پر راضی ہو گئے اور سڑک اپنے نقشے کے مطابق تعمیر کر دی گئی۔ اس واقعے کے بعد اہل مدرسہ اور حکومت کے ذمہ داروں کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہو گئے۔ اس کا مزید فائدہ یہ ہوا کہ وہاں اسلامی دعوت کی راہ ہموار ہو گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page