Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 454

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کو لوگ رکاوٹ کہتے ہیں، وہ حقیقی رکاوٹ نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف ضد اور انا کی رکاوٹ ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔ اس طرح کے مسائل کے موقع پر اگر دانش مندی سے کام لیا جائے تو مسئلہ اس طرح ختم ہو جائے گا جیسے کہ وہ تھا ہی نہیں۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک ذہنی مسئلہ ہوتا ہے، وہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ہر مسئلہ ابتداً ایک چھوٹا مسئلہ ہوتا ہے۔ یہ صرف لوگوں کا غیر دانش مندانہ رویہ ہے جو ایک چھوٹے مسئلے کو بڑا مسئلہ بنا دیتا ہے۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے اور نئے زیادہ پیچیدہ مسئلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ دانش مندی یہ ہے کہ مسئلے کو پہلے ہی مرحلے میں کر دیا جائے۔ مسئلے کا بڑھنا کسی بھی حال میں مفید نہیں، خواہ وہ فرد کا معاملہ ہو یا جماعت کا معاملہ۔ منفی تأثر، مثبت تأثر ایک صاحب نے ایم بی اے (ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن) کا کورس کیا۔ اس کے بعد اُن کو دہلی میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی سروس مل گئی۔ انھوں نے اس سروس کی بنیاد پر ہاؤس لون لے کر اپنا ایک گھر بنا لیا۔ اسی طرح انھوں نے کار لون لے کر اپنے لیے ایک کار حاصل کر لی۔ بظاہر اُن کے معاملات درست تھے۔ ایک عرصے کے بعد وہ مجھ سے ملے ۔ وہ اُس وقت غصے میں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کمپنی والوں نے میرے ساتھ ایک بے انصافی کی ہے۔ انھوں نے میرے ایک جونیئر کا پروموشن کر دیا۔ میں اس کے مقابلے میں سینئر تھا، مگر میرا پروموشن نہیں ہوا۔ میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ میں نے کہا کہ اسی کمپنی کی ملازمت کی وجہ سے شہر میں آپ کا گھر ہو گیا اور آپ کو کار مل گئی۔ اس کا آپ نے کبھی اعتراف نہیں کیا، اور آپ کا پروموشن نہیں ہوا تو آپ اس پر غصہ ہو رہے ہیں۔ یہی عام طور پر تمام عورتوں اور مردوں کا مزاج ہوتا ہے۔ وہ اپنے موافق باتوں کا چرچہ نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page