منفی سوچ اسلام میں نہیں
Urdu book, p. 461
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح آیا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دوبارہ زمین (شام) میں خرابی کروگے اور بڑی سرکشی دکھاؤگے۔ پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے ۔ نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹادی اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کروگے تو تم اپنے لیے اچھا کروگے اور اگر تم براکروگے تب بھی اپنے لیے بُرا کروگے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں گھُس جائیں۔ جس طرح اس میں پہلی بار گھسے تھے، اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کر دیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے ۔ اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے۔ اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے (8-17:4)۔ اس آیت میں یہود کی تاریخ کے دو ایسے واقعے کا ذکر ہے جب کہ غیر یہودی حکمراں نے یہودی قوم کے اوپر چڑھائی کر کے ان کو سخت تباہی سے دو چار کیا۔ پہلا واقعہ 586 قبل مسیح میں (عراق) کے غیر یہودی حکمراں نبوگد نضر (Nebuchadnezar) کے ذریعے پیش آیا، اور دوسرا واقعہ 70 عیسوی میں رومی بادشاہ تیتس (Titus) کے ذریعے ۔ مگر قرآن میں ان دونوں واقعات کو ظلم کا واقعہ نہیں بتایا گیا۔ یعنی یہ نہیں کہا گیا کہ فلاں ظالم حکمراں نے مظلوم یہودیوں کے اوپر متشددانہ کارروائی کی۔ اس کے برعکس، ان واقعات کو خدا نے اپنی طرف منسوب کیا۔ یعنی یہ کہ وہ خدا کے بندے تھے جو خدا کے منصوبے کی تکمیل کے لیے فلسطین بھیجے گئے۔ قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کا معاملہ بھی وہی ہے جو اس سے پہلے یہود کا معاملہ تھا۔ یعنی ایسا ہو سکتا ہے کہ جب مسلمانوں میں بگاڑ آ جائے تو خدا اپنے بندوں میں سے کسی بندے کے ذریعے مسلمانوں کے اوپر تنبیہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader