منفی سوچ اسلام میں نہیں
Urdu book, p. 462
By Maulana Wahiduddin Khan
عذاب بھیجے ۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس کو ظالم کا ظلم نہ سمجھیں، بلکہ خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی تنبیہی سزا سمجھیں ۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی کو ظالم فرض کرکے اس کے خلاف نفرت اور تشدد کا سلسلہ نہ شروع کریں ، بلکہ ذاتی احتساب کے ذریعے اپنی اصلاح میں لگ جائیں ۔ اسلام کے ظہور کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب کی یہی سوچ غالب رہی ۔ پرنٹنگ پریس اور میڈیا کے دور سے پہلے مسلمانوں کے لیے پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی چیز زیادہ تر قرآن اور حدیث ہوا کرتا تھا۔ اس لیے ان کی سوچ وہی بنتی تھی جو قرآن اور حدیث کی مذکورہ تعلیم کے مطابق ہو۔ ہر ایسے موقع پر وہ محاسبہ خویش میں مبتلا ہو جاتے تھے، نہ کہ دوسروں کو ملزم ٹھہرا کر ان کے خلاف نفرت اور انتقام کی باتیں کرنے لگیں ۔ یہاں اس سلسلے میں پچھلی تاریخ کی دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں ۔ تیرھویں صدی میں یہ واقعہ ہوا کہ ترکستان کے پہاڑی علاقے میں بسنے والے جنگ جو تاتاری قبائل مسلم سلطنت کے حدود میں داخل ہوئے ۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر حلب تک پورے علاقے کو تباہ کر دیا ۔ ہر طرف آگ اور خون کے مناظر دکھائی دینے لگے۔ بظاہر یہ دوسروں کی طرف سے جارحیت کا معاملہ تھا مگر اس زمانے کے علماء نے اس معاملے میں وہ منفی انداز اختیار نہیں کیا جو موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اس طرح کے معاملات میں عام طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ مشہور مسلم مؤرخ عزّالدین ابن الاثیر (وفات: 1232ء) تاتاری حادثے کے زمانے میں موجود تھے۔ انھوں نے خود ذاتی تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر اپنی کتاب ”الکامل فی التاریخ‘‘ میں اس واقعے کی تفصیل بیان کی ہے۔ ابن الاثیر نے اس واقعے کی ہولنا کی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ” کون ہے جس کے لیے آسان ہو کہ اسلام اور مسلمانوں کی ہلاکت کی داستان لکھے ۔ اور کون ہے جس کے لیے اس کا ذکر آسان ہو۔ کاش میری ماں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader