Urdu book · تعمیرِ شخصیت

منفی سوچ اسلام میں نہیں

Urdu book, p. 463

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے نہ جینا ہوتا، اور کاش میں اس سے پہلے مرگیا ہوتا اور ختم ہوگیا ہوتا۔ اگر کوئی کہے کہ جب آدم پیدا کیے گئے، اس وقت سے لے کر اب تک ایسا حادثہ انسانیت پر نہیں آیا تو یقیناً وہ سچا ہوگا۔ تاہم ابن اثیر نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی طرح یہ نہیں کیا کہ وہ تاتاری حملہ آوروں کے خلاف نفرت اور انتقام کی بولی بولنے لگیں۔ اور ان کو مجرم قرار دے کر ان کو بد دعائیں دیں۔ اس کے برعکس، ابن اثیر نے جو کیا وہ یہ تھا کہ انھوں نے خود مسلمانوں کو اس حادثے کا سبب قرار دیا۔ انھوں نے لکھا کہ ایران کے مسلم حکمراں خوارزم شاہ نے تاتاری تاجروں کو قتل کروایا اور ان کے مال کو لوٹ لیا۔ یہ خبر جب تاتاری سردار چنگیز خاں کو پہنچی تو اس نے قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ مسلم سلطنت کو تباہ کرکے رہے گا۔ چنانچہ اس نے غضب ناک ہو کر سمر قند کی طرف سے مسلم سلطنت پر حملہ کر دیا، جس کی تکمیل اس کے پوتے ہلاکو خاں نے کی (ابن الأثیر، الکامل فی التاریخ، جلد 12، صفحہ 362)۔ دوسری مثال لیجیے۔ نادر خاں (وفات 1747ء) ایران کا بادشاہ تھا۔ وہ ظلم اور سخت گیری کے لیے مشہور ہے۔ اس نے 1739ء میں ہندوستان پر حملہ کیا، اور پیش قدمی کرتا ہوا دہلی پہنچ گیا۔ اس نے دہلی میں فتح حاصل کرنے کے بعد یہاں قتل عام کروایا۔ اس کا اصل مقصد یہاں سونا چاندی لوٹنا تھا۔ چنانچہ اس نے یہی کیا۔ قتل عام کے بعد تخت طاؤس اور کوہِ نور ہیرا اور دوسرے قیمتی اموال لے کر وہ اپنے وطن واپس چلا گیا۔ اس سنگین واقعے پر بھی اُس وقت کے مسلم علماء کا ردِ عمل موجودہ مسلمانوں جیسا نہیں تھا۔ بلکہ انھوں نے اس کو احتساب کے خانے میں ڈال دیا۔ اس زمانے کے ایک مشہور بزرگ مرزا مظہر جانِ جاناں (وفات 1586ء) نے نادر خاں کے واقعے پر اپنا یہ تبصرہ کیا کہ نادر خاں نے جو کچھ کیا وہ نادر خاں کا ظلم نہ تھا، بلکہ یہ خود ہمارے اعمال تھے جنھوں نے نادر خاں کی صورت اختیار کر لی: شامتِ اعمال ما، صورتِ نادر گرفت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page