منفی سوچ اسلام میں نہیں
Urdu book, p. 464
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ صرف موجودہ زمانے کی بات ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے مذکورہ قسم کے واقعات پر فوراً منفی ردِعمل اختیار کر لیتے ہیں۔ آج کل مسلمانوں کے اخبار یا میگزین کو دیکھا جائے تو ہر ایک میں یہ ملے گا کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے واقعات کو دوسری قوموں کے ظلم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہو گا۔ اس قسم کی منفی رپورٹنگ اتنی عام ہے کہ اس میں غالباً کوئی استثناء نہیں۔ میرے تجربے کے مطابق، منفی رپورٹنگ کا یہ طریقہ زیادہ تر موجودہ زمانے میں پرنٹ میڈیا کا دَور آنے کے بعد شروع ہوا۔ جدید صحافت میں خبروں کی رپورٹنگ کا ایک خاص طریقہ ہے جس کو الٹا ہرم (Inverted Pyramid) کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی واقعے کے نقطۂ انتہا سے خبر کی رپورٹنگ کا آغاز کرنا۔ مثلاً نئی دہلی میں دو آدمیوں کے درمیان ایک مالی معاملے میں جھگڑا ہو، وہ بڑھ کر دشمنی بن جائے اور پھر ان میں سے ایک آدمی دوسرے کو مار ڈالنے کے درپے ہو جائے۔ وہ اس کا پیچھا کرنے لگے، یہاں تک کہ ایک دن وہ اس کو ایک پارک میں تنہا پا جائے اور اس کو قتل کر دے۔ اس واقعے کی خبر اگلے دن اخبار میں آئے تو ایسا نہیں ہوگا کہ کہانی کو اس کی واقعاتی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جائے اور پھر آخر میں قتل کی بات لکھی جائے۔ اس کے برعکس، خبر کا پہلا جملہ یہ ہوگا: نئی دہلی کے پارک میں قتل۔ واقعہ نگاری کا یہ طریقہ فطرت کے خلاف ہے۔ مثلاً قرآن جو کتاب فطرت ہے اس میں واقعہ نگاری کی ایک مثال سورہ یوسف میں ملتی ہے۔ اس سورہ میں پیغمبر یوسف کے حالات بتائے گئے ہیں۔ مگر اس میں جو اسلوب ہے وہ واقعے کی تاریخی ترتیب کے مطابق ہے۔ واقعہ نگاری کے اس اسلوب میں قاری کا ذہن وہی بنتا ہے جو فطری طور پر اس کا ذہن بننا چاہیے ۔ اس کے برعکس، مذکورہ صحافتی ترتیب میں قاری کا ذہن غیر فطری ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں واقعہ کا وہ نقشہ نہیں بنتا جو حقیقت کے اعتبار سے تاریخ کا نقشہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader