Urdu book · تعمیرِ شخصیت

منفی سوچ اسلام میں نہیں

Urdu book, p. 465

By Maulana Wahiduddin Khan

رپورٹنگ کے مذکورہ صحافتی طریقے کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہانی کے نصف ثانی کو نمایاں طور پر بیان کرنا، اور اس کے نصف اول کو یا تو تغیر مذ کور چھوڑ دینا یا اس کو ناقص صورت میں بیان کرنا۔ جدید رواج کے مطابق ، مسلمانوں کی صحافت میں بھی یہی طریقہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اختیار کر لیا گیا۔ اور پھر وہ اتنا زیادہ عام ہوا کہ موجودہ پریس کے زمانے میں ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان اسی اصول پر لکھنے اور بولنے لگا۔ حالاں کہ یہ غیر فطری طریقہ، اسلام میں نہایت برا سمجھا گیا ہے اور اس کو تطفیف (المطففین، 1: 83) کہا گیا ہے۔ رپورٹنگ کے اس طریقے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا مسلم میڈیا ، منفی خبروں سے بھر گیا۔ یہی منفی خبریں ہیں جن کو پڑھ کر ساری دنیا کے مسلمانوں کا ذہن منفی بن گیا۔ اور یہی منفی ذہن ہے جو اپنے نقطہ انتہا پر پہنچ کر وہ خوف ناک تشدد بن جاتا ہے، جس کو القاعدہ یا داعش (آئی ایس آئی ایس) یا بو کو حرام ، وغیرہ جیسے ناموں سے جانا جاتا ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے 1967ء میں اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں مصر کو زبردست شکست ہوئی اور اسرائیل نے پیش قدمی کر کے اپنے رقبے کو بہت زیادہ بڑھا لیا۔ اس واقعے پر عربی، فارسی ، انگریزی اور اُردو زبان میں جو رپورٹیں چھپیں یا اس واقعے پر مسلمانوں کی جو کتابیں شائع ہوئیں ان سب میں متفقہ طور پر ایک ہی بات کہی گئی تھی ، اور وہ یہ کہ اسرائیل نے مغربی قوموں سے سازش کر کے ظالمانہ طور پر مصر کے اوپر حملہ کیا اور فلسطین میں اپنی وسیع تر حکومت قائم کر لی۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ اصل کہانی کا صرف نصف آخر ہے۔ کہانی کا نصف اول اس میں شامل نہیں۔ کہانی کے نصف آخر کو سامنے رکھیے تو بظاہر یہ معلوم ہو گا کہ یہ اسرائیل کی طرف سے ایک ظلم کا واقعہ تھا۔ لیکن اگر کہانی کے نصف اول کو شامل کر کے غور کیا جائے تو برعکس طور پر یہ معلوم ہوگا کہ 1967ء میں جو کچھ ہوا اس کی ذمے داری مکمل طور پر خود عربوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ خود عرب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page