منفی سوچ اسلام میں نہیں
Urdu book, p. 466
By Maulana Wahiduddin Khan
قیادت کا ایک نادان اقدام تھا جس کی قیمت اسے ذلت اور بربادی کی شکل میں بھگتنی پڑی۔ 1967ء میں عربوں کے ساتھ جو المیہ پیش آیا اس پر پیغمبر اسلام کے یہ الفاظ پوری طرح صادق آتے ہیں: لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ قَالُوا: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ ( سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2254 ) ۔ یعنی، کسی مسلم کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ خود اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسی بلا سے تعرض کرے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ 1967ء کی جنگ میں عین یہی صورت پیش آئی۔ یہ قصہ نہر سوئز کی کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ نہر سوئز کو مغربی کمپنیوں نے بنایا تھا۔ جو مکمل ہو کر نومبر 1869ء میں جہاز رانی کے لیے کھولی گئی۔ نہر سوئز کا ٹھیکہ برطانیہ اور فرانس کی ایک مشترکہ کمپنی کو حاصل تھا۔ نہر سوئز برطانیہ اور فرانس کی مشترک کمپنی کو پٹے (lease) کے طور پر دی گئی تھی۔ یہ پٹہ 1968ء میں ختم ہو رہا تھا۔ اس کے بعد حسب معاہدہ ، نہر سوئز پوری طرح حکومت مصر کی ملکیت میں آ جاتی۔ پٹے کے ختم ہونے سے پہلے بھی مصری حکومت اور مصری عوام کو اس کے ذریعے بہت سے مالی فائدے مل رہے تھے۔ مگر پٹہ ختم ہونے سے پہلے مصر کے صدر جمال عبدالناصر (وفات 1970ء) نے تمام عربوں کی تائید سے ایک اشتعال انگیز واقعہ کیا۔ 29 اکتوبر 1956ء کو انھوں نے اچانک یہ اعلان کر دیا کہ آج ہم نے نہر سوئز کو نیشنلائز کر لیا۔ اور اب اس کی ساری آمدنی حکومتِ مصر کو حاصل ہوگی ( انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ، جلد 12 ، صفحه 844 ) ۔ جمال عبدالناصر کے اقدام پر سارا عرب رقص کر اٹھا۔ مگر برطانیہ اور فرانس کے لیے وہ ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ چنانچہ برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر اسرائیل کی بہت بڑی مدد کی ۔ اور اس کے ذریعے مصر پر حملہ کرا دیا۔ اس حملے میں مصر کی فوجی طاقت کچل کر رہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader