منفی سوچ اسلام میں نہیں
Urdu book, p. 467
By Maulana Wahiduddin Khan
گئ۔ اسرائیل نے مزید اطراف کے علاقوں پر قبضہ کر کے اپنے رقبے کو پانچ گُنا بڑھا لیا۔ جمال عبدالناصر اگر اس معاملے میں 12 سال انتظار کرتے تو سوئز کمپنی معاہدے کے مطابق، اپنے آپ ختم ہو جاتی۔ مگر ان کے عاجلانہ اقدام نے مصر کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ اور اسرائیل کا رقبہ بہت زیادہ بڑھ گیا۔ جو چیز 1968ء میں اپنے آپ مل جاتی اس کو 1956ء میں پیشگی طور پر حاصل کرنے کی کوشش مصر کے حق میں الٹی ثابت ہوئی۔ اس طرح اس کہانی کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک حصہ وہ ہے جو نہر سوئز کو غیر حکیمانہ طور پر قبضے میں لینے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو نہر سوئز پر غیر حکیمانہ قبضے کے بعد بطور ردِ عمل پیش آیا۔ اگر اس کہانی کے صرف نصف ثانی کو دیکھا جائے تو اسرائیل ظالم اور سرکش دکھائی دے گا۔ لیکن اگر اس کہانی کے نصف اول کو ملا کر اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہو گا کہ مصر - اسرائیل جنگ کے بعد عربوں کے ساتھ جو بُری صورتِ حال پیش آئی وہ خود عربوں کی اپنی نادانی کا نتیجہ تھی۔ اس معاملے میں عربوں کا کیس عمل کا کیس ہے اور اسرائیل کا کیس ردِ عمل کا کیس۔ اسرائیل کا مزید استحکام، دراصل خود عربوں کی اپنی ناعاقبت اندیشانہ پالیسی کی قیمت تھی جو انھوں نے ادا کی۔ مگر غلط رپورٹنگ کی بنا پر ایسا ہوا کہ تمام مسلمان، اسرائیل سے نفرت میں مبتلا ہو گئے۔ حالاں کہ اصل صورتِ حال کے مطابق، انھیں خود اپنے احتساب میں مصروف ہونا چاہیے تھا۔ ایک تقابلی مثال سے یہ معاملہ بخوبی طور پر سمجھ میں آ سکتا ہے۔ یہ مثال وہ ہے جو ہانگ کا نانگ سے تعلق رکھتی ہے۔ برطانی استعمار کے زمانے میں انگریزوں نے ہانگ کا نانگ کو پٹے پر 99 سال کے لیے لیا تھا۔ پٹے کی یہ مدت 1997ء میں ختم ہو رہی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانی ایمپائرز کمزور ہوا تو چین نے ہانگ کا نانگ کی واپسی کا مطالبہ شروع کر دیا ۔ مگر چین نے اپنے آپ کو گفت و شنید کی حد تک محدود رکھا۔ اس نے کبھی اس معاملے میں یہ پروگرام نہیں بنایا کہ وہ ہانگ کا نانگ میں اپنی فوجیں داخل کر کے اس پر قبضہ کرلے۔ اگرچہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader