تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 468
By Maulana Wahiduddin Khan
ہانگ کانگ کا جزیرہ چین سے ملا ہوا ہے۔ برطانوی حکومت سے چین کی یہ گفت و شنید جاری رہی۔ یہاں تک کہ 1997 ء میں جب پٹے کی مدت پوری ہوئی تو ہانگ کانگ سے برطانیہ کا اقتدار بھی ختم ہو گیا۔ ہانگ کانگ اب چین کے باقاعدہ قبضے میں ہے۔ 1967ء کی جنگ میں، اسرائیل نے فلسطین، اردن، شام اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ عربوں (فلسطین، اردن، شام، مصر) نے اس جنگ میں اپنا قیمتی علاقہ کھودیا۔ مگر ٹھیک اسی قسم کی صورتِ حال میں ہانگ کانگ میں برعکس نتیجہ سامنے آیا۔ یہاں چین نے ایک قیمتی جزیرے کو اپنے علاقے میں شامل کر لیا۔ عربوں نے اپنی ناعاقبت اندیشانہ منصوبہ بندی کی قیمت ادا کی اور چین نے اپنی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی بنا پر قابلِ ذکر فتح حاصل کی۔ مذکورہ تفصیل بتاتی ہے کہ اسرائیل کا مسئلہ دراصل کسی کے ظلم یا سازش کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ خود عربوں کی اپنی نادانیوں کا نتیجہ تھا۔ موجودہ زمانے کا متشددانہ جہاد سب سے زیادہ فلسطین کی زمین سے ابھرا ہے۔ تمام عرب اور تمام مسلمان اس جہاد کو انصاف کی لڑائی سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ایک غیر عاقلانہ اقدام کے نقصان کی تلافی، ایک اور غیر عاقلانہ اقدام سے کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کا ہر اقدام فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ خدا کی اس دنیا میں ایسا اقدام کبھی کامیاب ہونے والا نہیں۔ بحران کا مسئلہ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ اکثر آرٹ آف کرائسس مینجمنٹ (the art of crisis management) کی بات کرتے ہیں۔ یہ نہایت اہم موضوع ہے۔ یہ ہر آدمی کا ایک ذاتی مسئلہ ہے۔ ہر آدمی کبھی نہ کبھی کرائسس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس کا کارگر فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا کارگر فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب زندگی میں کوئی کرائسس پیش آئے، تو اس کو خدا کے حوالے کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader