سوال وجواب
Urdu book, p. 476
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال و جواب سوال ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں الرسالہ سے پورا اتفاق رکھتا ہوں۔ مگر ایک چیز سے میں ابھی تک پورا اتفاق نہ کر سکا۔ وہ یہ کہ الرسالہ میں مثبت انداز میں کام کرنے کو کہا جاتا ہے، مگر خود الرسالہ میں تنقیدی اُسلوب پایا جاتا ہے۔ حالاں کہ تنقید کا اُسلوب منفی اُسلوب ہے۔ مزید یہ کہ الرسالہ کی تنقید یک طرفہ تنقید ہوتی ہے۔ اس میں زیر تنقید شخص کے مثبت پہلو کو عام طور پر بیان نہیں کیا جاتا۔ (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی) جواب ماہ نامہ الرسالہ میں کبھی یہ نہیں لکھا گیا کہ تنقیدی اُسلوب درست نہیں۔ الرسالہ میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ صرف منفی اُسلوب کے بارے میں ہے، نہ کہ تنقیدی اُسلوب کے بارے میں۔ منفی اُسلوب میں دو قسم کی چیزیں شامل ہیں، شکایتی اُسلوب اور عیب زنی کا اُسلوب۔ یہ دونوں چیزیں بلاشبہ حرام کے درجے میں قابل ترک ہیں۔ جہاں تک تنقیدی اُسلوب کی بات ہے، وہ سرے سے قابل اعتراض ہی نہیں۔ تنقید کے بغیر کبھی ذہنی ترقی نہیں ہو سکتی۔ تاہم تنقید سے مراد تنقیص نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد علمی تجزیہ ہے۔ اور علمی تجزیہ ہمیشہ نہایت مفید ہوتا ہے۔ الرسالہ میں جو تنقید ہوتی ہے، وہ ہمیشہ علمی تجزیہ کے معنی میں ہوتی ہے، نہ کہ شکایتی اُسلوب اور عیب زنی کے اُسلوب کے معنی میں۔ اصل یہ ہے کہ لوگوں نے خود ساختہ طور پر بعض شخصیتوں کو اکابر کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس لیے جب اُن کے مفروضہ اکابر پر تنقید کی جائے تو اس سے اُنھیں تکلیف پہنچتی ہے۔ مگر ملت کے افراد کو اصاغر اور اکابر میں تقسیم کرنا بجائے خود ایک بدعت ہے، اور بدعت کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader