Urdu book · تعمیرِ شخصیت

سوال وجواب

Urdu book, p. 477

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں ضلالت کہا گیا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 17144)۔ اسلوبِ کلام کے دو طریقے ہیں۔ ایک اصلاحی اُسلوب، اور دوسرا قانونی اُسلوب۔ دونوں کے تقاضے الگ الگ ہیں۔ اس لیے دونوں کا انداز یکساں نہیں ہوسکتا۔ اصلاحی اُسلوب کا مقصد کسی شخص یا اشخاص کی اصلاح ہوتا ہے۔ اس لیے حکمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ سارا زور کمی والے پہلو پر دیا جائے، تاکہ آدمی کا ذہن اُس کو پکڑ سکے۔ اصلاحی اُسلوب میں اگر ”عیب مے جملہ بہ گفتی، ہنرش نیز بگو“ (تم نے تمام عیب بیان کر دیے، اب اس کی خوبی بھی بیان کردو) کا طریقہ اختیار کیا جائے، تو کلام بے اثر ہو کر رہ جائے گا۔ مثلاً حضرت عائشہ سے ایک بار بتایا گیا کہ ابو ہریرہ فلاں حدیث بیان کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا: كَذَبَ أَبُو هُرَيْرَةَ (ابو ہریرہ نے جھوٹ کہا)۔ حضرت عائشہ نے یہ انداز اختیار نہیں کیا کہ - پہلے وہ حضرت ابو ہریرہ کے تمام کارنامے بیان کریں اور اس کے بعد یہ کہیں کہ صرف ایک حدیث کے بیان میں ابو ہریرہ سے غلطی ہو گئی ہے۔ اس قسم کا ”متوازن“ طریقہ رسول نے یا اصحاب رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا طریقہ متوازن طریقہ نہیں ہے، بلکہ وہ غیر مفید طریقہ ہے۔ واضح رہے کہ قانونی اُسلوب میں مختلف پہلوؤں کا احاطہ مقصود ہوتا ہے۔ لیکن اصلاحی اُسلوب یہ ہے کہ دوسرے تمام پہلوؤں کو چھوڑ کر صرف اُس پہلو کو بیان کیا جائے جو موقع کی نسبت سے مطلوب ہے۔ یہی اصلاح یا دعوت کا صحیح اُسلوب ہے، اور یہی وہ اُسلوب ہے جس سے حقیقی نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ سوال میں دعوتی کام کرتا ہوں۔ مگر دعوتی کام کے دوران میں نے پایا ہے کہ کچھ لوگ لمبی لمبی بحثیں کرتے ہیں۔ میں اُن کو بہت زیادہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، مگر وہ مطمئن نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page