Urdu book · تعمیرِ شخصیت

سوال وجواب

Urdu book, p. 478

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتے۔ ایسی حالت میں مجھ کو کیا کرنا چاہیے؟ (ایک قاری الرسالہ، حیدر آباد) جواب اصل یہ ہے کہ جب آپ ایک شخص سے براہ راست گفتگو کریں تو اس میں آپ اور دوسرا شخص دونوں آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ گفتگو کے دوران ایگو پرابلم (ego problem) پیدا ہو جاتا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس جاگ اُٹھتا ہے کہ میں دوسرے کی بات کیوں مانوں۔ اگر میں نے دوسرے کی بات مانی تو میں اُس کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔ اس لیے دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب تک آپ دیکھیں کہ گفتگو سنجیدہ انداز میں ہو رہی ہے، تو آپ اپنی گفتگو جاری رکھیں، ورنہ آپ اُس کو مطالعے کے لیے کوئی کتاب پیش کر دیں۔ آدمی جب کتاب پڑھتا ہے، تو ایک طرف وہ خود ہوتا ہے اور دوسری طرف صرف ایک کتاب، نہ کہ اُس کے جیسا کوئی انسان۔ اس لیے کتاب کے مطالعے میں ایگو پرابلم نہیں ہوتا۔ آدمی کھلے ذہن کے تحت پڑھتا ہے اور کھلے ذہن کے تحت اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طریقے کا نام حکمتِ دعوت ہے، اور حکمت کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر نہیں ہو سکتا۔ سوال میں آپ کے قول و فکر سے بہت متاثر رہا ہوں۔ یہ اس بنا پر کہ میں نے آپ کی تحریر کی ہوئی باتیں آپ کے ماہنامہ الرسالہ میں پڑھی ہیں۔ میں نے آپ کی بتائی ہوئی اچھی باتیں دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں نے پایا کہ میرے اطراف کے لوگوں میں کچھ لوگ آپ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ جب میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو وہ مجھے کوئی قابل قبول وجہ نہیں بتا سکے۔ یہ لوگ صرف سنی سنائی باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ وہ خود اپنا کوئی ذاتی تجربہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page