Urdu book · تعمیرِ شخصیت

سوال وجواب

Urdu book, p. 479

By Maulana Wahiduddin Khan

یا مشاہدہ بتائیں تو وہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس طرح میں ان کو نظر انداز کر کے خاموشی سے تعمیری سوچ اور کام میں لگا ہوا ہوں۔ میرا ایک مشاہدہ آپ کے بارے میں ایسا ہوا ہے جو میری سمجھ سے غیر مناسب ہے اور آپ جیسی شخصیت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ کل کے اخبار (2009 ,7.The Hindu ,Aug) سے معلوم ہوا کہ آپ نے اڈوانی صاحب کی لکھی ہوئی کتاب ”میرا وطن میری زندگی“ کے Release Function میں شامل ہیں۔ ایک طرح سے یہ اُس شخصیت کا endorsement ہے جس کی لکھی ہوئی یہ کتاب ہے۔ اس مصنف کی جو قدریں (values) ہیں، وہ اس کے قول اور اُس سے زیادہ اس کے عمل اور کردار سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس بارے میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میرا تجربہ ہے اور دانش مندوں کی کہاوت ہے کہ خود غرض اور ظالم کی دوستی فائدہ مند نہیں ہوتی، خواہ وہ ظالم آپ پر مہربان ہو۔ ایسے لوگوں کے دعوت نامہ کو قبول کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کرنا چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے ایسی دعوت قبول کرنا بھی پڑے تو ایسے موقع پر اپنی بات پوری وضاحت اور مضبوطی سے کہنا چاہیے۔ تا کہ negative values کا endorsement نہ ہونے پائے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملہ میں آپ وضاحت کریں اور میری غلط فہمی دور کریں۔ (ایم اے صدیقی ، کان پور) جواب اصل یہ ہے کہ کسی واقعہ کو دیکھنے کے دوزاویے (angles) ہوتے ہیں۔ ایک مثبت زاویہ اور دوسرا منفی زاویہ۔ ایک واقعہ مثبت زاویہ سے دیکھنے میں صحیح واقعہ نظر آئے گا۔ اسی واقعہ کو دوسرے زاویہ سے دیکھا جائے تو وہ منفی واقعہ بن جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صلح حدیبیہ پیش آیا۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمر فاروق نے منفی زاویہ سے دیکھا تو ان کو وہ پسپائی کا ایک واقعہ نظر آیا۔ انھوں نے کہا کہ لم نعطي الدّنية في ديننا ( مسند احمد، حدیث نمبر 18928 )۔ اس کے برعکس،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page