سوال وجواب
Urdu book, p. 480
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ نے اس کو مثبت زاویہ سے دیکھا اور قرآن میں اعلان کیا کہ یہ فتح مبین ہے (48:1)۔ آپ کی غلط فہمی یہ ہے کہ آپ نے مذکورہ اجتماع میں میری شرکت کو دوستی کے زاویہ سے دیکھا اور اس کو صاحب کتاب کا endorsement سمجھ لیا۔ آپ کے لیے صحیح یہ تھا کہ آپ اس کو دعوت کے زاویہ سے دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ مذکورہ اجتماع میں میری شرکت ایک صحیح اور باعث ثواب معاملہ تھا۔ جو شخص بھی ماہ نامہ الرسالہ اور اس کا خبر نامہ باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے تو اس کو معلوم ہوگا کہ مذکورہ واقعہ کوئی استثنائی واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ بہت سے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ تھا۔ میں اور میرے ساتھی دعوت الی اللہ کا مشن چلا رہے ہیں۔ یہ مشن ایک مبنی بر لٹریچر مشن ہے ہم مسلسل یہ کر رہے ہیں کہ انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر ہونے والے اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں۔ وہاں ہم لوگوں کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر مذہب اور ہر گروہ اور ہر پارٹی کے اجتماعات میں جاتے ہیں۔ اگر ہم آپ کے بیان کردہ زاویے سے چیزوں کو دیکھیں تو ہم دعوت کے مواقع (opportunities) کو استعمال نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں گناہ گار ثابت ہوں گے۔ ہمارا یہ طریقہ پیغمبر کے سنت کے عین مطابق ہے۔ حضرت یوسف نے قدیم مصر میں وہاں کے بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن میں ایک ذمہ دارانہ عہدہ قبول کیا، حالاں کہ یہ بادشاہ ایک مشرک بادشاہ تھا۔ حضرت یوسف اگر اس معاملہ کو (شرک) کے زاویہ سے دیکھتے، تو بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن (administration) میں شرکت نہ کرتے۔ مگر آپ نے اس کو اپنے دعوتی مشن کی حیثیت سے دیکھا اور قبول کر لیا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی زمانہ میں 13 سال تک مکہ میں تھے ۔ وہاں آپ کعبہ میں جاتے اور نماز ادا فرماتے اور لوگوں کو دعوت پہنچاتے، حالاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader