سوال وجواب
Urdu book, p. 481
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ اس زمانے میں کعبہ کی عمارت میں کھلے طور پر 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر اس واقعہ کو منفی زاویہ سے دیکھا جائے تو وہ شرک کا انڈورسمنٹ نظر آئے گا۔ لیکن رسول اللہ نے اس کو دعوت کے زاویہ سے دیکھا۔ آپ نے یہ فارمولا اختیار کیا کہ بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرو اور وہاں موجود لوگوں میں اپنا پیغام پہنچاؤ۔ ہم نے اپنے دعوتی مشن میں اسی پیغمبرانہ طریقہ کو اختیار کیا ہے۔ ہم لوگوں کو دشمن اور دوست کے اعتبار سے نہیں دیکھتے۔ ہم ہر انسان کو صرف انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ ہر عورت اور ہر مرد کو ہم حق کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر اجتماعی موقع پر جاتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں ہوتی ہیں ان کو ہم ایک ایک شخص تک پہنچاتے ہیں۔ مذکورہ اجتماع میں پورے انڈیا کے تقریباً تمام ٹاپ کے کٹر ہندو لیڈر موجود تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر ان لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ النَّاسِ أَعْدَاءُ مَا جَهِلُوا (لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں جس کو وہ نہیں جانتے) کی مثال ہے۔ جو لوگ دعوت کے فرض سے غافل ہیں ، جو یہ نہیں سمجھتے کہ مسلمان کا دوسرے انسانوں سے تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے، وہ اس معاملے میں غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کو دوست اور دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ کسی کو اپنا اور کسی کو غیر سمجھتے ہیں۔ وہ کسی سے محبت کرتے ہیں اور کسی سے نفرت۔ ایسے لوگ ایک داعی کی پوزیشن کو سمجھ نہیں پاتے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ ہمارے بارے میں کسی انگریزی یا ہندی اخبار میں ایک خبر پڑھ کر رائے نہ بنائیں بلکہ خود ہماری تحریروں کو پڑھ کر ہمارے بارے میں رائے بنائیں ۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو کبھی مذکورہ قسم کی غلط فہمی نہیں ہوگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader