سوال وجواب
Urdu book, p. 485
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب کشمیر کا مسئلہ ہو یا اس قسم کے دوسرے مسائل، ہر ایک کا سبب صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگ محدود طور پر صرف اُس مسئلے کو لے کر سوچتے ہیں جس سے وہ عملاً دوچار ہیں۔ وہ اُن مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے۔ یہ اوپر اٹھ کر سوچنا۔ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں خلقِ عظیم (68:4) کہا گیا ہے۔ خلقِ عظیم کا لفظی مطلب ہے برتر کردار، لیکن برتر کردار برتر آئیالوجی سے پیدا ہوتا ہے۔ برتر آئیالوجی نہیں تو برتر کردار بھی نہیں۔ مومن کے لیے برتر آئیالوجی صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی دوسری چیزوں کو لے کر سوچنے کے بجائے اللہ رب العالمین کو لے کر سوچے ۔ اس کے اندر خدا رخی سوچ (God oriented thinking) آجائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اندر خدا رخی سوچ نہیں، وہ صرف اپنے معاشی اور سیاسی مسائل کو جانتے ہیں۔ ان کی موجودہ سوچ اسی بنیاد پر بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ کی نصرت سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کے پاس صرف شکایت کی زبان ہے، ان کے پاس شکر کی زبان نہیں۔ موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو بڑے مسئلے ہیں: کشمیر کا مسئلہ اور فلسطین کا مسئلہ۔ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے عملاً لاینحل مسئلے بنے ہوئے ہیں۔ ان دونوں مسائل کا حل اگر موجودہ قسم کی کوششوں سے ممکن ہوتا تو اب تک وہ ہو چکا ہوتا۔ لیکن 60 سال سے زیادہ مدت کی غیر معمولی کوششوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے کسی بھی درجے میں حل نہیں ہوئے۔ ایسی حالت میں کشمیریوں اور عربوں دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں ۔ اس کے سوا، ہر دوسری تدبیر صرف نقصان میں اضافہ کرے گی، وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader