Urdu book · تعمیرِ شخصیت

سوال وجواب

Urdu book, p. 486

By Maulana Wahiduddin Khan

کشمیر کے مسلمان اب تک دو چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھے، آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر۔ مگر یہ دونوں نشانے قومی سوچ پر بنے ہیں، نہ کہ خدائی سوچ پر۔ صحیح یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمان اپنی سوچ پر نظر ثانی کریں اور یہ کہیں کہ ہمارا نشانہ نہ آزاد کشمیر ہے اور نہ پاکستانی کشمیر، ہمارا نشانہ صرف خدائی کشمیر (divine Kashmir) ہے۔ خدائی کشمیر کو اپنا نشانہ بنانے کا مطلب ہے، خدا والی سوچ کے تحت اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی تو آپ نے وہاں یہ اشو نہیں کھڑا کیا کہ مکہ سیاسی طور پر کس کے قبضے میں ہو۔ اس کے برعکس، آپ نے یہ کیا کہ صورت موجودہ (status quo) کو تسلیم کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیا۔ کشمیریوں کو بھی اسی نہج پر کام کرنا ہے۔ کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ جموں و کشمیر میں جو سیاسی سٹیٹس کو (political status quo) بن گیا ہے وہ اُس سے ٹکراؤ نہ کریں بلکہ اس کو تسلیم کرتے ہوئے وہ اپنی ساری کوشش پر امن دعوت الی اللہ کے کام میں لگا دیں۔ یہی وہ سنت ہے جو عربوں کو فلسطین میں اختیار کرنا ہے۔ فلسطین میں عربوں کے کرنے کا واحد کام یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی متشددانہ تحریک کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ وہ یک طرفہ طور پر ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ دیں اور اپنی ساری طاقت پر امن دعوت میں لگا دیں۔ فلسطین میں دعوت الی اللہ کے عظیم مواقع ہیں، اسرائیل کے درمیان بھی اور سیاحوں (tourists) کے درمیان بھی، جو دنیا بھر سے بکثرت روزانہ فلسطین کے علاقے میں آتے ہیں۔ دعوت الی اللہ کا کام اہل ایمان کا اصل مشن ہے۔ اِسی مشن کی ادائیگی پر اُن کو اللہ کی نصرتیں حاصل ہوں گی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جن چیزوں کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں، اُس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page