حمد کلچر
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
حمد لکلچر قرآن میں خالق کائنات کو رب العالمین کہا گیا ہے۔ راغب الاصفهانی (وفات 502ھ) نے رب کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: هو إنشاء الشيء حالا فحالا إلى حدّ التمام (المفردات فى غريب القرآن، صفحه 336)۔ یعنی کسی چیز کی پرورش کر کے اس کو درجہ بدرجہ کمال تک پہنچانا۔ رب العالمین کی اس صفت کا اظہار مادی کائنات میں بھی ہوا ہے، اور انسانی تاریخ میں بھی۔ مادی کائنات میں ربوبیت کی مثال یہ ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کی سب سے پہلی دریافت، شعوری طور پر تو نہیں، مگر غیر شعوری طور پر یہ ہوتی ہے کہ کیسا عجیب ہے، وہ خالق جس نے پوری دنیا کو میرے لیے کسٹم میڈ دنیا بنا دیا۔ رحم مادر اور خارجی دنیا کا پورا نظام عین وہی ہے، جو انسان کے لیے مطلوب تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے لیے بنا ہے، اور دنیا انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔ انسانی تاریخ میں اللہ تعالیٰ صفت ربوبیت کا اظہار مختلف اعتبار سے ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ یعنی، کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ قرآن کی اس آیت میں مایوسی سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے پچھلے لمحات ختم ہوگئے، مگر اگلا لمحہ ابھی باقی ہے۔ اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کو اوویل کرو۔ اس معاملے میں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کی حمد کرے، اور الحمد للہ کلچر کو اپنائے ۔ حمد کی حقیقت شکر ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث رسول میں آیا ہے: الْحَمْدُ رَأْسُ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader