تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
الشُّكْرُ، مَا شَكَرَ اللهَ عَبْدٌ لَا يَحْمَدُه (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 4085)۔ یعنی، حمد شکر کی بنیاد ہے، اس بندے نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا، جو اس کی حمد نہ کرے۔ حمد اور کبد کے درمیان قرآن میں ایک طرف حمدِ خداوندی کی تعلیم دی گئی ہے۔ دوسری طرف یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا انسان کے لیے کبد کی دنیا ہے (90:4)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل کے درمیان رہتے ہوئے خدا کا شکر کرنے والے بنو۔ ناپسندیدہ حالات میں بھی تمہارا دل شکر الہی کے مثبت جذبات سے معمور رہے۔ حمد اللہ کی نسبت سے مطلوب ہے، اور صبر انسان کی نسبت سے۔ قرآن کے اس بیان کے مطابق، دنیا انسان کے لیے دار الکبد ہے۔ ایسی حالت میں، وہ کس طرح سچا شکر گزار بن کر رہ سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ حمد اللہ کی نسبت سے ہے، اور کبد انسان کی نسبت سے۔ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد اور شکر ہے۔ دار الکبد میں انسان شکر گزار کیسے بنے۔ اس کا جواب صبر ہے۔ مومن کو انسان کی زیادتیوں پر صبر کرنا ہے تا کہ اس کے اندر شکر کی اسپرٹ باقی رہے، وہ ہر حال میں اپنے رب کے لیے شکر کا ریسپانس دیتا رہے ۔ دوسروں کے مقابلے میں صبر کرنا کوئی منفی بات نہیں۔ اس میں خود انسان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے۔ جو شخص انسان کی زیادتیوں پر صبر کرے گا اس کے اندر ذہنی انضباط (intellectual discipline) کی صلاحیت پرورش پائے گی۔ اس کے اندر ذہنی بیداری آئے گی ۔ وہ ایک سنجیدہ انسان بن جائے گا۔ اس کی فطرت میں چھپے ہوئے امکانات (potential) ان فولڈ (unfold) ہونے لگیں گے۔ اس کے اندر گہری سوچ (deep thinking) پیدا ہوگی۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جائے گا کہ اعلی معرفت کی سطح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader