تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ منافق انسان بھی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے کہ اس معاملے میں مجھ سے غلطی ہوئی۔ لیکن وہ زبان سے الفاظ کی صورت میں اس کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، مؤمن کا طریقہ یہ ہے کہ جب اس کی غلطی اس پر واضح ہو جاتی ہے تو وہ فوراً کہہ اٹھتا ہے کہ میں نے غلطی کی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق غلطی کے احساس کے بعد فوراً بول پڑتے تھے۔ مثلاً ایک بار انھوں نے کہا کہ: أَصَابَتِ امْرَأَةٌ وَأَخْطَأَ عُمَرُ ۔ اور كُلُّ النَّاسِ أَفْقَهُ مِنْكَ يَا عُمَرُ ! (تفسیر القرطبی، جلد 5، صفحہ (99) ۔ یعنی، ایک عورت نے صحیح کہا، اور عمر نے غلطی کی ۔ اے عمر، ہر آدمی تجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دل میں غلطی کو محسوس کرنا اور زبان سے بول کر اس کا اظہار نہ کرنا منافقانہ روش ہے۔ اور دل میں غلطی کا احساس پیدا ہوتے ہی زبان سے بول کر لفظوں میں اس کا کھلا اعتراف کرنا مؤمنانہ روش۔ رمضان کا مہینہ رمضان میں ایک مہینے کے لیے روزہ رکھا جاتا ہے۔ یعنی دن کے اوقات میں کھانے اور پینے کو پوری طرح چھوڑ دینا۔ دوسرے لفظوں میں آدمی سال کے گیارہ مہینے تک کھانے اور پینے کا تجربہ کرتا ہے اور سال کے ایک مہینے میں وہ یہ تجربہ کرتا ہے کہ نہ کھانا کیا ہے اور نہ پینا کیا ۔ یہ باخوراک زندگی کے بعد بے خوراک زندگی کا تجربہ ہے۔ یہ آزاد زندگی کے بعد پابند زندگی کا تجربہ ہے۔ غذا کی حیثیت ایک علامت کی ہے۔ غذا علامتی طور پر یہ بتاتی ہے کہ خدا نے اس دنیا میں استثنائی طور پر انسان کے لیے وہ عظیم سسٹم بنایا ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ وسیع کائنات میں ان گنت ستارے اور سیارے ہیں لیکن کہیں بھی وہ لائف سپورٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader