Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

نے الجیریا کے مسئلہ کو اس وقت حل کر دیا جب کہ ان کے سوا کوئی دوسرا شخص اس کو حل نہیں کر سکتا تھا۔ (جلد 7، صفحہ 965) جنرل ڈیگال نے اس کے بعد الجیریا کے لیڈروں کو گفت و شنید کی دعوت دی۔ اس گفت و شنید کا فیصلہ عین منصوبہ کے تحت الجیریا کے حق میں ہوا۔ یعنی حکومت فرانس اس پر راضی ہو گئی کہ الجیریا میں ریفرنڈم کرایا جائے اور لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ فرانس کی ماتحتی پسند کرتے ہیں یا آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ ریفرنڈم ہوا۔ پیشگی اندازے کے مطابق الجیریا کے باشندوں نے آزاد الجیریا کے حق میں اپنی رائے دیں اور اس کا احترام کرتے ہوئے حکومت فرانس نے جولائی 1962 میں الجیریا کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں چارلس ڈیگال پر سخت تنقیدیں ہوئیں۔ ان کے اوپر قاتلانہ حملے کیے گئے۔ اس کے بعد عوام کے دباؤ کے تحت ڈیگال نے فرانس میں ایک ریفرنڈم کرایا جس میں ڈیگال کو شکست ہوئی۔ بالآخر انھوں نے 28 اپریل 1969 کو صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ 9 نومبر 1970 کو ان پر قلب کا دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ ڈیگال ایک معمولی قبرستان میں اس طرح دفن کر دیئے گئے کہ ان کے جنازے میں ان کے رشتہ داروں اور چند دوستوں کے سوا کوئی اور شریک نہ تھا۔ ڈیگال خود مر گئے مگر انھوں نے مر کر اپنی قوم کو دوبارہ زندگی دے دی۔ ڈیگال کے اس واقعہ سے یورپ میں ایک اصطلاح بنائی گئی ہے جس کو گالزم (Gaulism) کہا جاتا ہے۔ گالزم دراصل اپنی قیادت کی قیمت پر قوم کو بچانا ہے۔ برطانیہ (1984) کے الفاظ میں ڈیگال تنہا شخص تھے جس میں یہ حوصلہ تھا کہ وہ ایسے نازک فیصلے لے سکیں جن سے سخت قسم کے سیاسی اور شخصی خطرات ( political and personal (risks وابستہ ہوتے ہیں (7/965)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page