تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
روک بن گئے کہ وہ مستقبل کی مثبت پالیسیوں (positive policies) کے بارے میں خاکہ بنانے سے زیادہ کچھ کر سکیں (جلد 7، صفحہ 964)۔ فرانس اپنے افریقی مقبوضات کو فرانس کا صوبہ (province) کہتا تھا۔ وہ ان کی زبان اور کلچر کو اس حد تک بدل دینا چاہتا تھا کہ وہاں کے باشندے اپنے آپ کو فرانسیسی کہنے اور سمجھنے لگیں ، مگر یہ منصوبہ فرانس کے لیے بہت مہنگا پڑا۔ عملاً یہ ممالک فرانس کا صوبہ نہ بن سکے اور اس غیر حقیقت پسندانہ کوشش نے خود فرانس کو ایک کمزور ملک بنا دیا۔ فرانس کی تمام بہترین طاقت مقبوضہ ممالک میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے اور کچلنے میں استعمال ہونے لگی اور فرانس نے یورپ کی ایک عظیم طاقت (great power) ہونے کی حیثیت کھودی۔ سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ افریقہ پر قبضہ کرنے کی کوشش میں فرانس ایٹمی دوڑ میں پیچھے ہو گیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ چارلس ڈیگال نے محسوس کیا کہ نو آبادیاتی جنگ لڑنے کی کوشش فرانس کے لیے اس میں مانع ہوگئی ہے کہ وہ بڑے پیمانی پر ایٹمی تحقیق کرے۔ چنانچہ ڈیگال سے الجیریا کو آزاد کر دیا اور اس کے بعد مضبوط ایٹمی طاقت کو وجود میں لانے کی کوشش شروع کردی جو فرانس کی عظیم حیثیت کے لیے نئی بنیاد بن سکے۔ (جلد 4 ، صفحہ 905) ڈیگال نے معاملہ کو قومی ساکھ یا ذاتی قیادت سے الگ ہو کر دیکھا۔ ٹھنڈے دل سے سوچنے کے بعد وہ اس رائے پر پہنچے کہ اس مسئلہ کا حقیقت پسندانہ حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا جائے ۔ تاہم فرانس کے لیے یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ فرانس کے قومی عزت و وقار (national prestige) کا مسئلہ تھا اور قومی وقار ایسی چیز ہے کہ قومیں لڑ کر تباہ ہو جاتی ہیں مگر وہ اپنے وقار کو کھونا برداشت نہیں کرتیں۔ یہ یقینی تھا کہ جو شخص اس معاملہ میں قومی وقار کے خلاف فیصلہ کرے گا وہ فرانس میں اپنی مقبولیت کو یکسر ختم کر دے گا۔ تاہم ڈیگال نے یہ خطرہ مول لیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں: ڈیگال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader