تعمیر قوم کی ضرورت
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
( گاندھی جنونیوں کے ہاتھ ہلاک ) اس میں شک نہیں کہ مہاتما گاندھی کے حادثہ کے بارے میں یہ صحیح ترین سرخی تھی۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں دورِ جحانات کا مقابلہ تھا ـــــ گاندھی ازم اور فنیٹسرْم۔ اس مقابلہ میں فنیٹسرْم کو کامیابی ہوئی، گاندھی ازم نا کام ہو کر رہ گیا۔ ملک کی تقسیم بلاشبہ غلط تھی۔ مگر اس سے بھی زیادہ غلط بات یہ تھی کہ تقسیم کے بعد لوگ اس کے رد عمل سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد ہندوؤں کی ایک جماعت مہاتما گاندھی کی سخت مخالف ہو گئی۔ اس نے مہاتما گاندھی کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اولا مدن لال نے مہاتما گاندھی پر دستی بم پھینکا مگر وہ نشانہ پر نہیں پہنچ سکا۔ اس کے بعد اس کے ساتھی نا تھو رام گوڈ سے نے پستول کی گولی سے مہاتما گاندھی کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد 9 آدمیوں پر مقدمہ چلایا گیا جو 6 ماہ سے زیادہ مدت تک جاری رہا۔ اس موقع پر بیان دیتے ہوئے مدن لال نے جو کچھ کہا تھا ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس کو اس بات کا غصہ تھا کہ مہاتما گاندھی کے اصرار پر ہندوستانی حکومت نے پاکستان کو اس کے حصہ کا 55 کروڑ روپیہ دے دیا۔ اس واقعہ نے گوڈ سے کو مشتعل کر دیا: Madan Lal said he was angered by the Indian Union's payment of 550,000,000 rupees to Pakistan. This exasperated Godse. Louis Fischer, The Life of Mahatma Gandhi Harper & Row Publishers, 1983, New York, p. 504 آزادی کے بعد صرف ساڑھے چار مہینہ کے اندر پیش ہونے والا یہ واقعہ ملک کے لیے ایک چیلنج تھا۔ وہ مہاتما گاندھی کے بتائے ہوئے اصول پر چلے یا قوم پرست جنونیوں کے آگے جھک جائے۔ ملک کی قیادت نے ابتداء یہ فیصلہ کیا کہ اس کو مہاتما

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader