Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر قوم کی ضرورت

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

گاندھی کے بتائے ہوئے اصولی راستہ پر چلنا ہے ۔ چنانچہ اس کے مطابق ملک کا دستور بنایا گیا ۔ اور 26 جنوری 1956 کو اس کے باقاعدہ نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ۔ اب بظاہر ملک کے مستقبل کی تعمیر دستور ہند کی رہنمائی میں ہونی چاہیے تھی ۔ مگر یہاں ایک رکاوٹ پیش آگئی ۔ دستور ساز اسمبلی کے ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس کی چھت کے نیچے بیٹھ کر جو کچھ کا غذ پر لکھا تھا وہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں پر نہ لکھا جا سکا ۔ کاغذی دفعات کے مطابق ملک کا مذہب سیکولرزم تھا ، مگر عوامی رجحان کے مطابق ملک کا مذہب بدستور فیٹڑزم ( مجنونانہ قوم پرستی ) بنارہا ۔ اس تضاد کا اظہار پچھلی تقریباً نصف صدی کے دوران مختلف صورتوں میں ہوتا رہا ہے ۔ یہ صورت حال ملک کے لیڈروں کے لیے سخت آزمائش تھی ۔ کاغذ کے اوپر خوبصورت دفعات لکھنے کے لیے بازار کی سیاہی کافی ہے ۔ مگر زندگی میں ان دفعات کے عملی نفاذ کے لیے اس قربانی کی ضرورت تھی جس کو ڈیگل کے نام پر گال ازم کہا جاتا ہے ۔ ہمارے لیڈروں نے پہلا کام تو کیا ، مگر وہ دوسرا کام نہ کر سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ دستور ہند کے الفاظ ملک کی حقیقی زندگی میں واقعہ نہ بن سکے ۔ ملک میں جو دستور بنایا گیا تھا وہ حقیقتاً ارکان اسمبلی کی سطح پر بنایا گیا تھا وہ وسیع تر سطح پر عوامی رجحانات کا نمائندہ نہ تھا ۔ اس لیے بہت جلد دونوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آگیا ۔ دستور کے الفاظ شہر یوں کے درمیان مساوات کا اعلان کر رہے تھے ۔ مگر ملکی عوام تعصب اور امتیاز کے راستہ پر چلتے رہے ۔ دستور کے الفاظ ہر ایک کے لیے یکساں انصاف کی ضمانت دے رہے تھے مگر عوامی رجحان کا تقاضا تھا کہ اپنوں کے ساتھ ایک سلوک کیا جائے اور غیروں کے ساتھ دوسرا سلوک ۔ یہاں ملکی حکمرانوں کو دستور کا ساتھ دینا تھا نہ کہ عوامی خواہشات کا ۔ مگر انھوں نے دیکھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page