Urdu book · تعمیر کی طرف

تاریخ کا سبق

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ کا سبق جرمن ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر (1945-1889) ذاتی حفاظت کے لیے اپنے پاس ایک خاص پستول رکھتا تھا۔ اس پستول پر سونے کا کام تھا۔ اور اس کا دستہ ہاتھی دانت کا بنا ہوا تھا۔ یہ پستول دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی فوجیوں کو میونخ میں ہٹلر کے مکان میں ملا۔ اس وقت سے یہ پستول محفوظ رکھا ہوا تھا۔ تازہ اطلاع کے مطابق اس کو نیلام کر دیا گیا ہے۔ ایک شخص نے اس کو 1,14,000 ڈالر میں خرید لیا۔ یہ پستول اور بندوق کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ قیمت ہے جو کسی ایک دستی ہتھیار کو ادا کی گئی۔ (ٹیلیگراف 22 نومبر 1987) دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہٹلر کو سابق متحدہ جرمنی میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ حتیٰ کہ وہ ملک کا ڈکٹیٹر بن گیا۔ تاہم اس ”قائد اعظم‘‘ نے جرمنی کو ”قوم اصغر‘‘ بنانے کے سوا اور کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ ہٹلر نے جو حالات پیدا کیے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جرمنی کا وسیع ملک تقسیم ہو کر کئی حصوں میں بٹ گیا، اور اس پر چار بیرونی طاقتوں (روس، برطانیہ، امریکہ، فرانس) کا غلبہ قائم ہو گیا۔ خود ہٹلر کا آخری انجام یہ ہوا کہ جس پستول کو وہ اپنی ذاتی حفاظت کے لیے ہر وقت اپنے پاس رکھتا تھا، دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد اس نے 30 اپریل 1945 کو اسی پستول سے اپنے آپ کو مار خودکشی کر لی—ہٹلر نے اپنی قوم کو بھی ہلاک کیا اور بالآخر خود اپنے آپ کو بھی۔ ہٹلر کا عروج کس طرح ہوا جدید اقتصادی تاریخ کے بارے میں آپ کوئی کتاب پڑھیں تو آپ کو اس میں ایک اصطلاح عظیم بحران (great depression) کی ملے گی۔ اس سے مراد وہ غیر معمولی کساد بازاری ہے جو یورپ اور امریکہ میں 1929 میں شروع ہوئی۔ اور 1939 تک جاری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page