تاریخ کا سبق
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
رہی۔ اس زمانہ میں مخصوص اسباب کے تحت صنعتی پیداوار گوداموں میں ڈھیر ہوگئی اور بازار میں ان کے خریدار بہت کم ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کارخانے بند ہوگئے۔ اقتصادی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں۔ تقریباً 25 فیصد صنعتی کارکن بالکل بے روزگار ہوگئے۔ جرمنی میں بے روزگار آدمیوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔ مغربی دنیا کی نصف تجارت برباد ہوکر رہ گئی۔ یہ بحران ابتدائی طور پر اگر چہ اقتصادی تھا، مگر اس کے نہایت اہم سیاسی نتائج برآمد ہوئے۔ انتہا پسند عناصر زیادہ طاقت ور ہوگئے اور اعتدال پسند لوگوں کی ساکھ بہت گھٹ گئی: The Depression had important consequences in the political sphere. strengthening extremist forces and lowering the prestige of Liberal democracy (IV/6960) کسی سماج میں بظاہر سب سے زیادہ طاقت و رادارہ حکومت کا ہوتا ہے، اس لیے عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی بڑی مصیبت پڑتی ہے تو لوگ اس کو حکمرانوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں عمومی طور پر وقت کے حکمرانوں کے خلاف فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ اس نفسیات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص مصائب کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے اور اس کے خلاف پر جوش تقریریں کرے، وہ لوگوں کو اپنا سچا ہمدرد دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص مجموعی حالات کی روشنی میں مسائل کا تجزیہ کرے وہ لوگوں کی نظر میں "ظالم حکومت" کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔ ایسے شخص کے متعلق لوگوں کا گمان یہ ہوجاتا ہے کہ وہ عوام کو عمل کے اصل نشانہ سے ہٹا دینا چاہتا ہے۔ زمانہ بحران (39-1929) میں جرمنی کے یہی حالات تھے جس کو ہٹلر نے استعمال کیا۔ اس نے تمام مصیبتوں کا ذمہ دار حکومت وقت کو قرار دے کر اس کے خلاف آتشیں تقریریں شروع کردیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں وہ جرمنی کا سب سے مقبول لیڈر بن گیا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں 1929 کے بعد پیدا ہونے والے اقتصادی بحران سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader