Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

اثر پور کے معاملے پر از سر نو غور کرنا شروع کیا۔ ان کے حقیقت پسندانہ انداز فکر نے انہیں بتایا کہ نو آبادیاتی ممالک کو موجودہ حالات میں زیادہ دیر تک اپنے قبضہ میں رکھنا ناممکن ہے۔ جدید حالات کے نتیجہ میں بہر حال ایک نہ ایک دن وہ آزاد ہو کر رہیں گے۔ لیکن اگر برطانیہ پر امن طور پر انہیں آزاد کر دے تو یہ اس کے لیے کھونے سے زیادہ پانے کے ہم معنی ثابت ہوگا۔ یہ دراصل فبیبن دماغ ہی تھا جس کے تحت برطانیہ نے 1947 میں یہ تاریخی فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان کو (اور اس کے بعد دوسرے ممالک کو) پر امن طور پر آزاد کر دے۔ اس حقیقت پسندانہ فیصلہ کا زبردست فائدہ برطانیہ کو ملا۔ ایک طرف اس کے عالمی اقتصادی فائدے بڑی حد تک محفوظ رہے ۔ دوسری طرف برٹش کامن ویلتھ کی صورت میں اس نے مزید کم از کم نصف صدی تک اپنے عالمی سیاسی وقار کا تحفظ کر لیا۔ ہمارے لیے سبق ہندوستان کے حالات نے اگر چہ اس کی اجازت نہ دی کہ یہاں کوئی شخص "ہٹلر بن سکے، مگر ایک اعتبار سے ہمارے اکثر لیڈر ہٹلر ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے بیشتر لیڈر خواہ وہ کمیونٹی لیڈر ہوں یا قومی لیڈر، یہی کرتے رہے ہیں کہ وہ فرقہ یا قوم کو پیش آنے والی کسی مصیبت کو لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ بگڑے ہوئے حالات کی پوری ذمہ داری وقت کی حکومت پر ڈال کر اس کے خلاف دھواں دھار تقریریں شروع کر دیتے ہیں ۔ جلسہ، جلوس، اخباری بیانات کا ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے، اور ان سب کا رخ ہمیشہ حکومت وقت کی طرف ہوتا ہے۔ عوام اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر جوق در جوق ایسے لیڈروں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وقت کی حکومت کا خاتمہ کر دیں۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ یہ کہ حالات پہلے سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page