ترقی اور اتحاد
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
ترقی اور اتحاد آج کل جو چیز سب سے زیادہ بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے وہ قومی ایکتا (کلچرل انٹیگریشن ) ہے۔ وسیع تر معنوں میں اس کو انسانی ایکتا بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایکتا آج ہماری بہت بڑی ضرورت ہے۔ اسی پر ملک کی ترقی اور کامیابی کا دارومدار ہے۔ مگر اس معاملہ میں بولنے والے جو کچھ بول رہے ہیں یا لکھنے والے جو کچھ لکھ رہے ہیں ان کو دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس بارے میں لوگوں کا ذہن صاف نہیں کہ وہ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ اکثر لوگوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ نیشنل انٹیگریشن کا ذریعہ کلچرل انٹیگریشن ہے۔ یعنی لوگوں میں ایکتا پیدا کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ ان کا کلچر ایک کر دیا جائے۔ زبان، مذہبی رسوم، لباس، تیوہار، شادی بیاہ، اس قسم کی تمام چیزوں کو سب کے لیے یکساں اور مشترک بنا دیا جائے۔ اس طرح لوگوں کے اندر وہ ایکتا یا انٹیگریشن پیدا ہو جائے گا جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ مگر اس تجویز کو میں ایسا ہی سمجھتا ہوں جیسے کسی ملک میں تمام باشندوں کے درمیان اتحاد واتفاق پیدا کرنے کے لیے یہ تجویز پیش کی جائے کہ پلاسٹک سرجری کے ذریعہ تمام انسانوں کو ایک نقشہ کا بنا دیا جائے۔ جس طرح یکساں قسم کی پلاسٹک سرجری کے ذریعہ مختلف قسم کے لوگوں میں اتحاد پیدا نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح مذکورہ قسم کی تدبیروں سے قومی ایکتا یا نیشنل انٹیگریشن بھی پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی ایکتا کا راز ایک کلچر میں نہیں ہے بلکہ ایک ذہن میں ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں لوگوں کے اندر اس کے موافق سوچ پیدا کرنی ہوگی۔ پلاسٹک سرجری جیسا کوئی عمل ظاہری نقشہ کو بدل سکتا ہے مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader