تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ اندرونی سوچ کو نہیں بدل سکتا۔ اور محض ظاہری چیزوں کو ایک کر دینے سے کبھی حقیقی یکتا نہیں آسکتی۔ لینن اور اتاترک حقیقت یہ ہے کہ قومی یکتا کا معاملہ ہو یا اور کوئی معاملہ، ہر چیز سوچ کی سطح پر ختم ہوتی ہے اور سوچ ہی کی سطح پر دوبارہ اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لیے ایک تقابلی مثال لیجیے۔ یہ تقابلی مثال لینن (1924-1870) اور اتاترک (1881-1938) کی ہے۔ دونوں تقریباً ہم زمانہ تھے۔ دونوں کو یکساں طور پر اقتدار ملا۔ مگر لینن کا نام کامیابی کی علامت ہے اور اتاترک کا نام ناکامی کی علامت۔ کمال اتاترک کو ترکی میں 1919 میں اقتدار ملا اور 1938 تک (19 سال) جاری رہا۔ کمال اتاترک نے چاہا کہ ترکی اور یورپ کی دوئی کو مٹا دے اور ترقی کے نقشہ پر دونوں کو یکساں مقام دیدے۔ اس کا راز اس نے "کلچرل یکسانی" میں دریافت کیا۔ اس نے ریاستی قوت کے ذریعہ یہ کوشش کی کہ ترکی کے لوگ یورپ والوں کی طرح ہیٹ اور پتلون پہنیں، وہ اہل یورپ کے آداب اختیار کریں۔ حتیٰ کہ کمال اتاترک نے ترکی زبان کا رسم الخط بدل کر اس کو یورپی رسم الخط میں لکھنے کا حکم دیا جو اس سے پہلے عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی، وغیرہ۔ کمال اتاترک نے ان "اصلاحات" کو بزور پورے ترکی میں نافذ کر دیا۔ مگر ان اصلاحات کے نفاذ پر تقریباً بیس تر سال گزرنے کے بعد بھی ترکی بدستور ایک مریض اور پسماندہ ملک ہے۔ یورپ کے نقشہ میں وہ ترقی یافتہ ملک کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔ اس کے برعکس مثال لینن کی ہے۔ لینن کو روس میں 1917 میں اقتدار ملا اور 1924 تک (7 سال) جاری رہا۔ حالات کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نے جانا کہ موجودہ زمانہ کی اصل طاقت سائنس ہے۔ اس نے پہلا کام یہ کیا کہ روس میں بڑے پیمانہ پر ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader