Urdu book · تعمیر کی طرف

چند مثالیں

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوؤں اور پارسیوں میں لڑائی نہیں ہوئی۔ دونوں کے درمیان معیاری حد تک پر امن تعلقات ہیں۔ اس کے برعکس مثال ہندوؤں اور سکھوں کی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوؤں اور سکھوں میں باہمی شادی کا بے روک ٹوک رواج تھا۔ مگر انھیں دونوں فرقوں میں آج پنجاب میں اتنے بڑے پیمانہ پر لڑائی ہو رہی ہے جیسے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوں۔ یہ سلسلہ بھنڈراں والا اور آپریشن بلو اسٹار (اپریل 1986) کے وقت سے پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ اور ہر قسم کی کوششوں کے باوجود ابھی تک وہ ختم نہ ہو سکا۔ اسی طرح مثلاً کہا جاتا ہے کہ تمام فرقوں کی زبان ایک ہو جائے تو اس کے بعد لوگوں کے درمیان یکتا پیدا ہو جائے گی۔ مگر یہ بھی ایک غیر متعلق اور غیر مفید تجویز ہے۔ سوئزرلینڈ میں کئی زبانیں رائج ہیں۔ ان میں سے تین زبانوں کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ فرنچ، جرمن، اٹالین۔ مگر زبانوں کی کثرت کے باوجود ان کے درمیان کامل اتحاد اور ایکتا پائی جاتی ہے۔ بلکہ سوئزرلینڈ موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ پر امن ملک ہے۔ اس کے برعکس، مثال پاکستان کی ہے۔ وہاں باقاعدہ طور پر صرف ایک سرکاری زبان ہے، یعنی اُردو۔ اس کے باوجود پاکستان میں اتنے زیادہ باہمی جھگڑے ہیں کہ پاکستان کے قیام پر چالیس سال سے زیادہ بیت گئے مگر آج تک وہاں کا جھگڑا ختم نہیں ہوا۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ یک جہتی اور اتحاد کا تعلق لوگوں کی سوچ سے ہے نہ کہ ان کے ظاہری رسوم اور آداب سے۔ ملک کے باشندوں میں اگر صحیح سوچ موجود ہو اور وہ زندگی گزارنے کا راز جانتے ہوں تو وہ ظاہری فرق کے باوجود مل جل کر رہیں گے۔ اس کے برعکس، اگر ان کی سوچ درست نہ ہو، وہ زندگی کے راز سے واقفیت نہ رکھتے ہوں تو وہ ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہیں گے، خواہ ان کے ظاہری نشانات ایک جیسے کیوں نہ ہوں حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے معاملات کی درستگی میں اصل اہمیت طرزِ فکر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page