Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے مطابق، کائنات کا جو دین ( نظامِ عمل ) ہے ۔ وہی انسان کا دین ( نظامِ عمل ) بھی ہے ۔ دونوں کی کامیاب کارکردگی کا راز ایک ہی فطری نقشہ میں چھپا ہوا ہے ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا (3:83) ۔ یعنی ، کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں ، حالانکہ اسی کے تابع ہے وہ سب کچھ جو زمین و آسمان میں ہے ، خوشی سے یا ناخوشی سے ۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہوا ہے کہ : وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا (3:83) ۔ یعنی ، زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس زمین میں انسان کو بسایا گیا ہے وہ ایک اصلاح یافتہ زمین ہے۔ اس کے تمام اجزاء صحیح ترین کارکردگی پر قائم ہیں۔ ان میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں۔ اب انسان کو چاہیے کہ وہ اس نافذ شدہ نظامِ اصلاح سے مطابقت کر کے زمین پر زندگی گزارے ۔ اگر وہ اس نقشہ سے مطابقت نہ کرے تو یہ زمین پر فساد برپا کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ کسی مجموعہ کا ایک جزء، اگر مجموعہ سے مطابقت کر کے رہے تو نظام درست رہے گا ۔ اور اگر مجموعہ کا کوئی جزء، اصل مجموعہ کے غیر مطابق ہو جائے تو پورا نظام بگڑ جائے گا۔ یہ اصلاحی نقشہ میں فساد برپا کرنے کا موجب بن جائے گا۔ اس کو ایک لفظ میں کائناتی پیٹرن کہا جاسکتا ہے ۔ جو کائناتی پیٹرن کائنات کو کامیابی کے ساتھ چلا رہا ہے، وہی انسان کے لیے بھی مفید اور کامیاب ہے۔ دو پہلو وہ چیز جس کو ہم نے کائناتی پیٹرن کہا ہے، اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک فنی ( ٹیکنیکل ) پہلو ، دوسرا اخلاقی ( ایتھیکل ) پہلو ۔ جہاں تک کائناتی پیٹرن کے ٹیکنیکل پہلو کا تعلق ہے، اس معاملہ میں انسان نے عین وہی کیا ہے جو اسے ازروئے واقعہ کرنا چاہیے۔ وہ اس معاملہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page